Sunday, December 30, 2018

نانگا پربت کا عقاب

کتاب:نانگا پربت کا عقاب
نوعیت:سفرنامہ 
مصنف:ندیم اقبال 
صفحات:320
قیمت:800pkr
پبلشر:رنگ ادب پبلیکیشن 
"نانگا پربت" اک عشق کا نام ہے اور یہ لاحاصل بھی ہے اور حاصل بھی ۔ لاحاصل اس طرح کہ ابھی تک اسکے وصل سے فیض یاب نہ ہوسکے روبرو چہرہ بچہرہ ۔ لیکن یہ عشق حاصل ایسے ہے کہ اس بارے جہاں سے جو کچھ ملتا پڑھ لیتے جو نظر آتااس سے آنکھیں سیراب کر لیتے ہیں۔
تو جب حسن اتفاق سے اپنے یوم پیدائش  پر جو کہ عمر عقل کی طرف دو چار گام ہی دوری کا پتہ دینے آیا تھا تو اس پر یہ حسین اتفاق ہوا کہ "نانگا پربت کا عقاب" چلا آیا ایک تحفے کی صورت۔اور پھر بناء غور کیے اسکو پڑھنے کا آغاز کیا کہ یہ کس قسم کا عقاب ہے جو نانگا پربت کا ہے ۔ہمارا حال وہ تھا جو بچپن میں گھر میں جب اخبار آتا تو سب سے پہلے تصویروں والا صفحہ دیکھتے یا اپنا بچوں کا صفحہ بعد میں باقی چیزیں اگر قابل غور ہوتیں تو نظر مار لیتے ۔ اس سفر نامے کے ساتھ بھی qیہی ہوا۔ حالانکہ مصنف کا نام بمعہ تصویر سرورق پر موجود ہے لیکن ہم نے اسے بائ پاس کیا اور سفر کے آغاز پر نظر کی۔
تو ابتدائیہ ہی اتنا سادہ اسلوب لیے تھا کہ بس پھر دل میں خیال آیا اس سفرنامے کے ساتھ گاڑھی چھنے گی۔ اور پھر سرورق، پیش لفظ  وغیرہ کو پڑھا۔۔ 
خوشگوار  حیرت و خوشی ہوئی  کہ تارڑ صاحب نے اس سفرنامے بارے اپنا اظہار کیا اور کہا کہ اس سفر سے بہتوں کا  نہیں لیکن کچھ کا بھلا ضرور ہوگا۔۔تو شاید اس کچھ میں مابدولت بھی شامل ہیں ۔ 
ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ تارڑ صاحب کا آگے بھی ذکر ہوگا اور خوب ہوگا ۔
یہ سفرنامہ بلکہ اس سفر کا موئجب ہی تارڑ صاحب کا سفرنامہ "نانگ پربت" ہے ۔
ندیم صاحب جو تارڑ صاحب کے شمشال بے مثال کے ٹریک میں تارڑ صاحب کے 1999 میں ساتھی بھی رہے
۔ یہ سفرنانگاپربت  1997میں  کیا گیا تھا۔ اور پھر پندرہ سال بعد ماہنامہ سرگزشت میں قسط وار شائع ہوتا رہا اور اب اسے کتاطی شکل میں شائع کیا گیا۔ 
پہلے سفر نامے کی حثیت سے یہ بہت بہترین ہے۔مصنف کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے اور تب انھوں نے اپنے ساتھ اپنے دوست ساتھی جو کہ ناخواندہ تھے لیکن ان میں مناظر کا عشق عروج پر تھا لیکن وہ بس مری کی بلندیوں سے آگے کبھی نہیں گئے اور بہت سادہ ومعصوم طبیعت کے مالک انکی وجہ سے اس سفر میں ایک مسلسل مسکراہٹ کا ساتھ رہتا ہے اور مصنف کے لفظوں کے ذریعے آپ انکی اس سادگی سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ مصنف نے اس سفرنامے کیں گزشتہ سے پیوستہ کا  فلیش بیک بھی دیا جس سے مصنف کی ایک کوہ نوردی روح سے آپکی ملاقات ہوتی ہے اور یہ کیفیت ایک کوہ نورد، مناظر کے عشق میں مبتلا، ایک مہم جو روح کو بہت شاد کرتی ہے اور خود کو اس کیفیت کے عروج کو پوری طرح محسوس کرتی ہے۔ اور یہ جو عشق پہاڑاں ہے اسکو مہمیز کرتی ہے۔ مصنف نے گلگت بلتستان کے بارے جو نانگا پربت کے عقاب کی آنکھ سے مناظر دکھائے اور محسوس کرائے اس میں کہیں بھی نہ قاری کو اجنبیت محسوس کرنے دی نہ اسکی دلچسپی کو کسی قسم کی کوفت ہوتی ہے بلکہ وہ بھی اسی کیفیت میں بہتا چلا جاتا جس کے تحت مصنف اس عشق کی آگ کو بھڑکاتے ہوئے ان مناظر کی لفظی تصاویر پیش کرتا چلا جاتا ہے۔۔ 
اوردلچسپی کا عنصر کہیں بھی کم نہیں ہوتا۔بک شیلف میں ایک بہتر ین اضافہ ہے یہ کتاب۔
سمیریات 
فروری 2018

Saturday, December 29, 2018

خوردوپن ۔پُرخطر راستوں کا سفر

خوردو پن، پر خطر راستوں کا سفر
مصنف۔محمد عبدہ
نوعیت:سفرنامہ 
صفحات:160
ناشر۔V4پبلیکیشنز
یہ سفرنامہ کیا ہے ایک ٹریکر روح میں ہیجان خیزی و شر انگیزی پیدا کرنے کا ایک بہت ہی سیدھا لگتا انداز بیان جو بلکل بھی سیدھا نہیں ہے۔ مصنف جو کہ خود بھی منجھے ہوئے ٹریکر ہیں اور انکے ساتھی انسے بھی دو ہاتھ آگے بلکہ ٹریکرز ورلڈ کے پہنچے ہوئے "بابے"(اشفاق احمد والے بابے)  جو  پہاڑوں کی سلطنت میں والیت کی اونچی گدی پر براجمان ہیں۔
مصنف محمد عبدہ کا باقاعدہ پبلش ہونے والا پہلا سفر نامہ ہے جو تمام لوازمات لیے ہوئے ہے جس کا ایک ٹریکر روح کے لیے جاننا سمجھنا اور عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ 
جب سے معلوم ہوا کہ سفرنامہ پبلش ہو کر آگیا ہے تو اپنے ذاتی بہناپہ  رعب کے ساتھ مصنف کو جلدی سے اپنے لیے دستخط شدہ کاپی کی بک کروا دی۔اور جلد ہی ہاتھ میں بھی یہ سفر نامہ آگیا اور میرے جیسی روح کے لیے یہ کسی نعمت سے کسی طرح بھی کم نہیں تھا کہ جس نے کبھی فریج کی برف کے سوا کوئی برف نہیں دیکھی کجا اتنے پر خطر رستوں کی برفیں دیکھنا۔شمال کو ہی کبھی ہاتھ نہیں لگایا حقیقت میں لیکن ہان روح وہیں کہیں بھٹکتی ہے خود ہی اور افسانے داستانیں اپنے توشے میں بھرتی رہتی ہے۔
سفرنامے کو ہاتھ آتے ہی جو خوشی پہلے سے جاری تھی اس میں اور اضافہ ہوگیا۔نیا پاکستان کے خواب کی طرف روشن قدم کے ساتھ خوردو پن ایک خواب کی تکمیل کی شروعات کی تو ایسا جام لگا منہ کو کہ مشکل سے کچھ وقت کے لیے اسے خود سے الگ کرتی کہ کچھ دن تو اس سفر میں رہنا ہے اتنے نہ سہی جتنے دن کا اصل سفر لیکن چلو آدھے دن ہی سہی۔۔انداز تحریر اتنا دلچسپ اور مگن کرنے والا ہے کہ قاری بھی سفر کے لیے اپنا بیک پیک ساتھ ہی تیار کرنے بیٹھ جائے۔ 
خوشی کا راستہ خوردوپن سے ہوکر گزرتا ہے تو یہ واقعی ایسا ہی ہے۔۔۔ایک دن میں آٹھ کھانے آپکو بھی ٹھونسنا پڑتے۔چونسے آم کی پیٹیوں کی تلاش آپکو بھی ہونے لگتی ۔شمشال کے رانگلے کھیس کو آپ بھی اوڑھ کر مصنف اور ٹیم کے پیچھے چل پڑتے ہیں یہ رانگلا کھیس کوہ پیمائی، کوہنوردی، غرض پہاڑوں کا ہر رنگ کا دھاگہ لیے ہوئے ہے جو مصنف نے کوریا سے کھڈی پر جو چڑھایا تو اس میں پنجاب کے سرسوں، آموں کی مہک، ہنزہ کے پانیوں کا خمار، شمال کے ہر گوشے سے سوت لے کر دھاگے بنا کر کھڈی میں لگا دیے اور یہ کھیس اب بُن کر سپرد قاری کیا تو وہ اسے ہی اوڑھ کر خوردوپن کے رنگوں کا دل میں میٹھا ڈر دینے والے سفر  پر ساتھ ہو لیا۔
Bliss is on the other side of fear. 
اور جہاں ٹیم کے قدم رکے قاری کا دل رکا جہاں رستہ ملا ساتھ ہی خوشی کا نعرہ لگایا ۔جب پاس کا عروج سر ہوا تو بھنگڑا بھی ڈال دیا سب کے ساتھ۔ اور چشم تصور کوزندہ کر کے سب کے چہروں کی روشنی بھی دیکھ لی۔ 
اور پھر کہا ۔۔۔
او پیا جے خوردوپن۔۔۔ 
تو جو میری طرح کے ہیں انکے لیے ۔۔
او پیا جے خوردوپن ۔۔
پڑھ۔۔۔ہن پڑھدا کیوں نہیں؟  
اور جو ان سب عملی مجاہدوں کے لیے ۔۔۔
او پیا جے خوردوپن ۔۔
پڑھ پڑھ تے کراینو سر۔۔
کر ۔۔۔ہن کردا کیوں نہیں؟  


پی۔ایس 
میں بہت خوش نصیبی محسوس کرتی ہوں کہ میں مصنف عبدہ کو مل چکی جو کہ پاکستان کے چپے چپے کی معلومات خزانہ ہیں اور آن لائن اسکو ڈاکومینٹ بھی کرنے میں جُتے رہتے۔
 خوردوپن ٹیم کے  پہنچے ہوئے بابوں( علمی بابے نہ کہ عمری بابے :) ) سےبھی مل چکی ہوں کیسے کیسے خوب لوگ ہیں یہ واللہ۔۔
Hats off to  Abduhu bhai, Zeeshan bhai, Ahsan bhai,Nayyar qasim.  Abdul joshi and 
the team Khordupin.
سُمیریات 
جولائ 2018 

Tuesday, December 25, 2018

راکا پوشی کے سائے میں

کتاب:راکا پوشی کے سائے میں
نوعیت:سفر نامہ
مصنف: سعد منور

قیمت : آٹھ سو روپے
جب دن عجیب سے گزر رہے تھے اور خواب سارے کسی طاقچے میں  دن رات کی کشمکش و زندگی کی نا محسوس الجھنوں میں اپنا آپ اوجھل کر رہے تھے تو وہ دن آگیا جب مابدولت  اس عالم تنہائی و گنبد مینائ میں وارد ہونے کا حکم بجا لائ کئ برس یا صدیاں پہلے ۔
تو ایسے میں عجب اتفاق کہ ان اوجھل ہوتے خوابوں میں سے ایک چلا آتا ہے کسی مہربان کے توسط سے اور یہ مہربان ہر گز وہ نہیں جس بارے کہا گیا" کسی مہرباں نے آ کے میری زندگی سنواردی" بلکہ یہ تو سکوت میں ارتعاش کا مؤجب ہوا بلکل پچھلے یوم پیدائش کی طرح تب  قاتلانہ خواب نے تعاقب کیا یعنی " نانگا ہربت کا عقاب" چلا آیا تھا اور اب کی بار " راکا پوشی کے سائے میں" نے یہ جرات کی۔
مصنف سعد منور کا نام فیس بک کے ٹریکر گروپس میں دیکھا تھا لیکن کبھی کسی تحریر سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔تو شکریہ کے ساتھ پڑھنے کو اٹھا لیا میری مہربان نے صاحب کتاب کے میرے نام کچھ لفظوں کا تردد بھی بہم پہنچانے کی سعی کی تھی۔
یہ چھ لوگوں کی ٹیم کا راکا پوشی بیس کیمپ تغافری اور صاحب کتاب کے اس سے آگے جھیل کیچلی کے ٹریک کی داستان ہے جس میں ضمیمی طور پر درہ خنجراب و ہنزہ کی سیاحت کا احوال ہے۔ 
جو کتاب بہت شوق و اپنے لاحاصل عشق کے زیرنگیں اٹھا ئ تو سفرنامہ کے آغاذ میں تعارف کے مرحلے پر پہلا ہلکا سا شاک گزرا کہ قاری تحریر کے ذریعے ہی مصنف سے بھی متعارف ہوتا ہے۔چھ لوگوں میں بشمول مصنف چار لڑکے اور دو لڑکیوں کی ٹیم کا تعارف جس میں دو لڑکیوں میں سے بقول مصنف ایک لڑکی نہیں بلکہ "عورت" تھی۔ اب جس طرح کا تعارف اس ٹیم رکن کا کروایا گیا یقیناً اس میں حامل ہزا لڑکی کی ایما بھی ہوگی۔تب ایک سوال ذہن میں اٹھا تھا کہ بطور "عورت" کسی مصنف کے قلم سے میں اپنے آپکو کیسے پوٹریٹ کروانا پسند کروں گی؟  اپنے حلقہ خواتین میں بھی یہ سوال داغ دیا۔۔جوابات کیا یہ کسی اور وقت پر زیر بحث لاؤں گی۔خیر دل کو تسلی دی کہ نو آموز سفرنامہ نگار ہیں تو ابھی اس نازکی کے اسلوب کو شاید سمجھے نہیں لیکن اس عنصر کو نبھانے کی کوشش میں جو کسی سفرنامہ میں قاری کی دلچسپی کو برقرار رکھتا بلخصوص مرد قاری کی۔کہ آگے کئ جگہ ایسا لگا کہ وہ اس خاتون کو اپنے تخیل کے کردار کے مکالمے ادا کروا رہے ہیں۔اگر حقیقت میں بھی ویسا ہی سب تھا تو اس کو بیان کرنے کا انداز عامیانہ تھا۔کسی نے کہا تھا خواتین کے سراپے یا انکی شخصیت بارے تحریر کرنا بہت باریکی و محتاط انداز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔اور میِ سمجھتی ہوں اس کے لیے مطالعے کی ریاضت کا ہونا بھی اشد ضروری ہے۔بلکہ پورے افسانے کے اوور آل تبصرے پر بھی یہی خیال ہے میرا۔مصنف کی اچھی بات جو نماز کے حوالے سے گواہیاں جمع کرنے کی اپنے والد صاحب کی نصیحت پر عمل کرنے سب سے بہترین لگی۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ باتوں پر حیرت بھی ۔کہ کسی اور مصنف کی کتاب سے کہیں پورے پیراگراف اور کہیں کچھ سطریں لکھی گئیں لیکن حوالہ دینا مناسب نہیں سمجھا گیا کہوں تو عرف عام میں اسے سرقہ کہتے ہیں۔جو امیچور ہونے کی علامت ہے۔یہ مانتے ہیں اور ہوتا بھی ہے کہ آپ کسی خاص مصنف کو جب بہت پڑھتے ہو تو اسکا انداز بیان آپکی اپنی تحریر میں جھلکنے لگتا ہے لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا ہوبہو انداز و الفاظ وہی ہوجائیں۔نام کردار بدل دیے جائیں۔ مصنف کئ جگہ مزاح یا دلچسپی کا عنصر پیدا کرتے شاید تحریر کو کوئی عام سی گفتگو سمجھنے لگے حالانکہ بخوبی پتہ ہوگا کہ یہ کتاب پبلش ہورہی ہے تو اپنا لکھنے کا معیار پبلش ہونے کے معیار مطابق کرنے کی کوشش ہونی چاہئے تھی۔اوور آل یہ ایک بہت اچھی تو نہیں ہاں بہتر کوشش ہے لکھنے کی مشق کو جاری رکھنے کی لیکن چونکہ میرے علم میں ہے کہ یہ مصنف کا دوسرا سفرنامہ ہے تو سوچتی ہوں کیا یہ پہلے سے بہتر ہے؟  اسکا جواب یا مصنف کو پتہ ہوگا یا پہلا سفرنامہ پڑھنے والوں کو۔ حوصلہ افزائی کے لیے کہوں گی کہ نو آموز ٹریکر یا پہلی بار راکاپوشی کا نام سننے والے ضرور اس سفرنامے کو مفید پائیں گے۔لیکن اسلوب کے حوالے سے کہوں گی مصنف اس سفر نامے کو کسی بہتر وسعت مطالعہ سفرنامہ رکھنے والے سے اک بار پڑھوا کر پبلش کرتے تو بہت کچھ بہترین ہوجاتا جو کافی سقم رہ گئے۔کہ میرے محدود مطالعے میں پہلی بار سفرنامہ لکھنے والوں کے سفرنامے نظر سے گزرے ہیں ۔یہ تو پھر دوسرا سفرنامہ ہے صاحب کتاب کا۔اور کوئ آٹھ سو قیمت ادا کرے اک خزانے کے موتی کے لیے تو موتی اس معیار کا ضرور ہو کہ اسے آٹھ سو بھی کم لگیں۔ تقریباً دو سو صفحات کے لیے۔ 
بحر حال یہ لکھنے کے لیے ہاتھ سیدھا کرنے کی بہترین کاوش
ہے۔۔ ابھی ریاضت کے امتحان اور بھی ہیں۔ 

سُمیریات

Sunday, December 16, 2018

میرا نام ہے سرخ اردو ترجمہ ترکش ناول از اورحان پاموک

اور پھر میں نے آخر کار " میرا نام ہے سرخ" از اورحان پاموک کو ختم کرنے کا محاذ سر کر ہی لیا۔۔
صحیح کہا گیا کہ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتی آپ کتنی کوشش کر لیں وہ اجتناب کرتی رہتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ یہ اجتناب کو کم کرتے آپکو اپنے قریب ہونے کی اجازت دیتی ہیں۔ میرا نام سرخ ایسا ہی ناول تھا جس کو کئ بار اٹھایا لیکن چند صفحوں کے سے آگے بات بہ بڑھ سکی۔ اور پھر ایک دن اسے انہیں چند صفحوں سے آگے بڑھنے کے تہیہ کے ساتھ اٹھا لیا۔ پہلے یہ کوئ سسپینس لگا کچھ جاسوسی ٹائپ جو ایک قتل سے شروع ہوتا ہے لیکن پھر اس میں ایک محبت کی کہانی شروع ہوگئی اسکی آنکھ مچولیاں روایتی محبت نہیں بلکہ یہ بھی ایک اور طرح کا رنگ لیے ہوئے۔۔اس ناول میں جو سب سے نمایاں اور زیادہ زکر ہے وہ مصوری کا ہے اور مصوری بھی منی ایچر مصوری ۔مصنف کے تعارف سے بھی معلوم ہوا کہ اسکا تعلق مصوری سے بھی رہا یا ہے۔ تو موضوع مصوری ہے اور پھر اسی تناظر میں اسلامی مصوری یا اسلام میں مصوری کو اس خاص زمانے میں کس طرح سے لیا گیا اور اس میں کون کون سی انتہائیں آئیں کہ بات قتلوں کے سیریز طرف بڑھنے لگی اور قتل بھی اندھے کہ جن کے سراغ میں مصوری کے تاریخی کتب ان کے حوالے ان میں موجود نادر و نایاب تصویری کہانیوں کے ذکر۔۔ بظاہر یہ سب خشک سا ہے لیکن پھر بھی کچھ ایسا دلچسپ اور سنسنی خیز ہے کہ اسے مکمل کیے بناء چارہ نہیں بنتا۔۔ کئ جگہوں پر پڑھتے ہوئے خیال آتا رہا کہ اس میں ایسا کیا خاص کہ نوبل انعام کے لیے نامزد ہوگیا۔شاید مغربی پیمانے مطابق کچھ انتہا پسندی کی سوچ کو ہائ لائیٹ کرنے کا سبب اس ناول کو نوبل ہونے کی دوڑ میں شامل کروا گیا۔اگرچہ یہ ایک اردو ترجمہ شدہ ناول ہے ترکی زبان سے تو ہوسکتا ترکی زبان کا اسلوب بھی زیر غور ہوگا۔ بہر طور یہ اس حوالے سے کم از کم مجھے نہیں لگا کہ بہت خاص الخاص ہوگا۔اردو ناول کئ چاندتھے سر آسمان۔ یا خس و خاشاک زمانے اس سے اوپر ہیں۔
ویسے اس میں چینی منی ایچر مصوری کا جو ایک تصور ملا تو مجھے اپنے بچپن میں گھر میں موجود ایک "موبائل  آئنے" کے پیچھے بنی ایک چینی منی ایچر پرنٹینگ کی بار بار یاد آتی رہی وہی سب تفصیلات، چینی بادل، درخت، اک اداس سے ترچھی آنکھوں والی شہزادی چینی لبادہ اوڑھے ہوئے، پھولوں کی ڈالیاں، ان پر گیت گاتی چڑیاں۔اور تب بھی میں اس آئنے کو لے کر اس چینی منی ایچر پرینٹیگ کو کتنی ہی دیر دیکھتی جاتی اور خود سے ایک تصوراتی کہانی بنتی تھی خود کو کبھی اس شہزادی کی جگہ رکھ لیتی۔ ہاں اس تصویر میں ایک برا آدمی بھی تھا جس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا جو شاید اس شہزادی کو ہراساں کرتا یا وہ شہزادی اسکی قید میں تھی ۔
تو میرا نام سرخ کے چند صفحے رہ گئے اختیتام پر ہے لیکن  مجھے اپنی ایک بچپن کی بہت واضح یاد کو اس ناول نے فلم کی طرح دماغ میں چلا دیا۔
#سمیریات