کتاب:نانگا پربت کا عقاب
نوعیت:سفرنامہ
مصنف:ندیم اقبال
صفحات:320
قیمت:800pkr
پبلشر:رنگ ادب پبلیکیشن
"نانگا پربت" اک عشق کا نام ہے اور یہ لاحاصل بھی ہے اور حاصل بھی ۔ لاحاصل اس طرح کہ ابھی تک اسکے وصل سے فیض یاب نہ ہوسکے روبرو چہرہ بچہرہ ۔ لیکن یہ عشق حاصل ایسے ہے کہ اس بارے جہاں سے جو کچھ ملتا پڑھ لیتے جو نظر آتااس سے آنکھیں سیراب کر لیتے ہیں۔
تو جب حسن اتفاق سے اپنے یوم پیدائش پر جو کہ عمر عقل کی طرف دو چار گام ہی دوری کا پتہ دینے آیا تھا تو اس پر یہ حسین اتفاق ہوا کہ "نانگا پربت کا عقاب" چلا آیا ایک تحفے کی صورت۔اور پھر بناء غور کیے اسکو پڑھنے کا آغاز کیا کہ یہ کس قسم کا عقاب ہے جو نانگا پربت کا ہے ۔ہمارا حال وہ تھا جو بچپن میں گھر میں جب اخبار آتا تو سب سے پہلے تصویروں والا صفحہ دیکھتے یا اپنا بچوں کا صفحہ بعد میں باقی چیزیں اگر قابل غور ہوتیں تو نظر مار لیتے ۔ اس سفر نامے کے ساتھ بھی qیہی ہوا۔ حالانکہ مصنف کا نام بمعہ تصویر سرورق پر موجود ہے لیکن ہم نے اسے بائ پاس کیا اور سفر کے آغاز پر نظر کی۔
تو ابتدائیہ ہی اتنا سادہ اسلوب لیے تھا کہ بس پھر دل میں خیال آیا اس سفرنامے کے ساتھ گاڑھی چھنے گی۔ اور پھر سرورق، پیش لفظ وغیرہ کو پڑھا۔۔
خوشگوار حیرت و خوشی ہوئی کہ تارڑ صاحب نے اس سفرنامے بارے اپنا اظہار کیا اور کہا کہ اس سفر سے بہتوں کا نہیں لیکن کچھ کا بھلا ضرور ہوگا۔۔تو شاید اس کچھ میں مابدولت بھی شامل ہیں ۔
ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ تارڑ صاحب کا آگے بھی ذکر ہوگا اور خوب ہوگا ۔
یہ سفرنامہ بلکہ اس سفر کا موئجب ہی تارڑ صاحب کا سفرنامہ "نانگ پربت" ہے ۔
ندیم صاحب جو تارڑ صاحب کے شمشال بے مثال کے ٹریک میں تارڑ صاحب کے 1999 میں ساتھی بھی رہے
۔ یہ سفرنانگاپربت 1997میں کیا گیا تھا۔ اور پھر پندرہ سال بعد ماہنامہ سرگزشت میں قسط وار شائع ہوتا رہا اور اب اسے کتاطی شکل میں شائع کیا گیا۔
پہلے سفر نامے کی حثیت سے یہ بہت بہترین ہے۔مصنف کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے اور تب انھوں نے اپنے ساتھ اپنے دوست ساتھی جو کہ ناخواندہ تھے لیکن ان میں مناظر کا عشق عروج پر تھا لیکن وہ بس مری کی بلندیوں سے آگے کبھی نہیں گئے اور بہت سادہ ومعصوم طبیعت کے مالک انکی وجہ سے اس سفر میں ایک مسلسل مسکراہٹ کا ساتھ رہتا ہے اور مصنف کے لفظوں کے ذریعے آپ انکی اس سادگی سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ مصنف نے اس سفرنامے کیں گزشتہ سے پیوستہ کا فلیش بیک بھی دیا جس سے مصنف کی ایک کوہ نوردی روح سے آپکی ملاقات ہوتی ہے اور یہ کیفیت ایک کوہ نورد، مناظر کے عشق میں مبتلا، ایک مہم جو روح کو بہت شاد کرتی ہے اور خود کو اس کیفیت کے عروج کو پوری طرح محسوس کرتی ہے۔ اور یہ جو عشق پہاڑاں ہے اسکو مہمیز کرتی ہے۔ مصنف نے گلگت بلتستان کے بارے جو نانگا پربت کے عقاب کی آنکھ سے مناظر دکھائے اور محسوس کرائے اس میں کہیں بھی نہ قاری کو اجنبیت محسوس کرنے دی نہ اسکی دلچسپی کو کسی قسم کی کوفت ہوتی ہے بلکہ وہ بھی اسی کیفیت میں بہتا چلا جاتا جس کے تحت مصنف اس عشق کی آگ کو بھڑکاتے ہوئے ان مناظر کی لفظی تصاویر پیش کرتا چلا جاتا ہے۔۔
اوردلچسپی کا عنصر کہیں بھی کم نہیں ہوتا۔بک شیلف میں ایک بہتر ین اضافہ ہے یہ کتاب۔
سمیریات
فروری 2018



