Sunday, December 16, 2018

میرا نام ہے سرخ اردو ترجمہ ترکش ناول از اورحان پاموک

اور پھر میں نے آخر کار " میرا نام ہے سرخ" از اورحان پاموک کو ختم کرنے کا محاذ سر کر ہی لیا۔۔
صحیح کہا گیا کہ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتی آپ کتنی کوشش کر لیں وہ اجتناب کرتی رہتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ یہ اجتناب کو کم کرتے آپکو اپنے قریب ہونے کی اجازت دیتی ہیں۔ میرا نام سرخ ایسا ہی ناول تھا جس کو کئ بار اٹھایا لیکن چند صفحوں کے سے آگے بات بہ بڑھ سکی۔ اور پھر ایک دن اسے انہیں چند صفحوں سے آگے بڑھنے کے تہیہ کے ساتھ اٹھا لیا۔ پہلے یہ کوئ سسپینس لگا کچھ جاسوسی ٹائپ جو ایک قتل سے شروع ہوتا ہے لیکن پھر اس میں ایک محبت کی کہانی شروع ہوگئی اسکی آنکھ مچولیاں روایتی محبت نہیں بلکہ یہ بھی ایک اور طرح کا رنگ لیے ہوئے۔۔اس ناول میں جو سب سے نمایاں اور زیادہ زکر ہے وہ مصوری کا ہے اور مصوری بھی منی ایچر مصوری ۔مصنف کے تعارف سے بھی معلوم ہوا کہ اسکا تعلق مصوری سے بھی رہا یا ہے۔ تو موضوع مصوری ہے اور پھر اسی تناظر میں اسلامی مصوری یا اسلام میں مصوری کو اس خاص زمانے میں کس طرح سے لیا گیا اور اس میں کون کون سی انتہائیں آئیں کہ بات قتلوں کے سیریز طرف بڑھنے لگی اور قتل بھی اندھے کہ جن کے سراغ میں مصوری کے تاریخی کتب ان کے حوالے ان میں موجود نادر و نایاب تصویری کہانیوں کے ذکر۔۔ بظاہر یہ سب خشک سا ہے لیکن پھر بھی کچھ ایسا دلچسپ اور سنسنی خیز ہے کہ اسے مکمل کیے بناء چارہ نہیں بنتا۔۔ کئ جگہوں پر پڑھتے ہوئے خیال آتا رہا کہ اس میں ایسا کیا خاص کہ نوبل انعام کے لیے نامزد ہوگیا۔شاید مغربی پیمانے مطابق کچھ انتہا پسندی کی سوچ کو ہائ لائیٹ کرنے کا سبب اس ناول کو نوبل ہونے کی دوڑ میں شامل کروا گیا۔اگرچہ یہ ایک اردو ترجمہ شدہ ناول ہے ترکی زبان سے تو ہوسکتا ترکی زبان کا اسلوب بھی زیر غور ہوگا۔ بہر طور یہ اس حوالے سے کم از کم مجھے نہیں لگا کہ بہت خاص الخاص ہوگا۔اردو ناول کئ چاندتھے سر آسمان۔ یا خس و خاشاک زمانے اس سے اوپر ہیں۔
ویسے اس میں چینی منی ایچر مصوری کا جو ایک تصور ملا تو مجھے اپنے بچپن میں گھر میں موجود ایک "موبائل  آئنے" کے پیچھے بنی ایک چینی منی ایچر پرنٹینگ کی بار بار یاد آتی رہی وہی سب تفصیلات، چینی بادل، درخت، اک اداس سے ترچھی آنکھوں والی شہزادی چینی لبادہ اوڑھے ہوئے، پھولوں کی ڈالیاں، ان پر گیت گاتی چڑیاں۔اور تب بھی میں اس آئنے کو لے کر اس چینی منی ایچر پرینٹیگ کو کتنی ہی دیر دیکھتی جاتی اور خود سے ایک تصوراتی کہانی بنتی تھی خود کو کبھی اس شہزادی کی جگہ رکھ لیتی۔ ہاں اس تصویر میں ایک برا آدمی بھی تھا جس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا جو شاید اس شہزادی کو ہراساں کرتا یا وہ شہزادی اسکی قید میں تھی ۔
تو میرا نام سرخ کے چند صفحے رہ گئے اختیتام پر ہے لیکن  مجھے اپنی ایک بچپن کی بہت واضح یاد کو اس ناول نے فلم کی طرح دماغ میں چلا دیا۔
#سمیریات

No comments:

Post a Comment