Saturday, December 29, 2018

خوردوپن ۔پُرخطر راستوں کا سفر

خوردو پن، پر خطر راستوں کا سفر
مصنف۔محمد عبدہ
نوعیت:سفرنامہ 
صفحات:160
ناشر۔V4پبلیکیشنز
یہ سفرنامہ کیا ہے ایک ٹریکر روح میں ہیجان خیزی و شر انگیزی پیدا کرنے کا ایک بہت ہی سیدھا لگتا انداز بیان جو بلکل بھی سیدھا نہیں ہے۔ مصنف جو کہ خود بھی منجھے ہوئے ٹریکر ہیں اور انکے ساتھی انسے بھی دو ہاتھ آگے بلکہ ٹریکرز ورلڈ کے پہنچے ہوئے "بابے"(اشفاق احمد والے بابے)  جو  پہاڑوں کی سلطنت میں والیت کی اونچی گدی پر براجمان ہیں۔
مصنف محمد عبدہ کا باقاعدہ پبلش ہونے والا پہلا سفر نامہ ہے جو تمام لوازمات لیے ہوئے ہے جس کا ایک ٹریکر روح کے لیے جاننا سمجھنا اور عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ 
جب سے معلوم ہوا کہ سفرنامہ پبلش ہو کر آگیا ہے تو اپنے ذاتی بہناپہ  رعب کے ساتھ مصنف کو جلدی سے اپنے لیے دستخط شدہ کاپی کی بک کروا دی۔اور جلد ہی ہاتھ میں بھی یہ سفر نامہ آگیا اور میرے جیسی روح کے لیے یہ کسی نعمت سے کسی طرح بھی کم نہیں تھا کہ جس نے کبھی فریج کی برف کے سوا کوئی برف نہیں دیکھی کجا اتنے پر خطر رستوں کی برفیں دیکھنا۔شمال کو ہی کبھی ہاتھ نہیں لگایا حقیقت میں لیکن ہان روح وہیں کہیں بھٹکتی ہے خود ہی اور افسانے داستانیں اپنے توشے میں بھرتی رہتی ہے۔
سفرنامے کو ہاتھ آتے ہی جو خوشی پہلے سے جاری تھی اس میں اور اضافہ ہوگیا۔نیا پاکستان کے خواب کی طرف روشن قدم کے ساتھ خوردو پن ایک خواب کی تکمیل کی شروعات کی تو ایسا جام لگا منہ کو کہ مشکل سے کچھ وقت کے لیے اسے خود سے الگ کرتی کہ کچھ دن تو اس سفر میں رہنا ہے اتنے نہ سہی جتنے دن کا اصل سفر لیکن چلو آدھے دن ہی سہی۔۔انداز تحریر اتنا دلچسپ اور مگن کرنے والا ہے کہ قاری بھی سفر کے لیے اپنا بیک پیک ساتھ ہی تیار کرنے بیٹھ جائے۔ 
خوشی کا راستہ خوردوپن سے ہوکر گزرتا ہے تو یہ واقعی ایسا ہی ہے۔۔۔ایک دن میں آٹھ کھانے آپکو بھی ٹھونسنا پڑتے۔چونسے آم کی پیٹیوں کی تلاش آپکو بھی ہونے لگتی ۔شمشال کے رانگلے کھیس کو آپ بھی اوڑھ کر مصنف اور ٹیم کے پیچھے چل پڑتے ہیں یہ رانگلا کھیس کوہ پیمائی، کوہنوردی، غرض پہاڑوں کا ہر رنگ کا دھاگہ لیے ہوئے ہے جو مصنف نے کوریا سے کھڈی پر جو چڑھایا تو اس میں پنجاب کے سرسوں، آموں کی مہک، ہنزہ کے پانیوں کا خمار، شمال کے ہر گوشے سے سوت لے کر دھاگے بنا کر کھڈی میں لگا دیے اور یہ کھیس اب بُن کر سپرد قاری کیا تو وہ اسے ہی اوڑھ کر خوردوپن کے رنگوں کا دل میں میٹھا ڈر دینے والے سفر  پر ساتھ ہو لیا۔
Bliss is on the other side of fear. 
اور جہاں ٹیم کے قدم رکے قاری کا دل رکا جہاں رستہ ملا ساتھ ہی خوشی کا نعرہ لگایا ۔جب پاس کا عروج سر ہوا تو بھنگڑا بھی ڈال دیا سب کے ساتھ۔ اور چشم تصور کوزندہ کر کے سب کے چہروں کی روشنی بھی دیکھ لی۔ 
اور پھر کہا ۔۔۔
او پیا جے خوردوپن۔۔۔ 
تو جو میری طرح کے ہیں انکے لیے ۔۔
او پیا جے خوردوپن ۔۔
پڑھ۔۔۔ہن پڑھدا کیوں نہیں؟  
اور جو ان سب عملی مجاہدوں کے لیے ۔۔۔
او پیا جے خوردوپن ۔۔
پڑھ پڑھ تے کراینو سر۔۔
کر ۔۔۔ہن کردا کیوں نہیں؟  


پی۔ایس 
میں بہت خوش نصیبی محسوس کرتی ہوں کہ میں مصنف عبدہ کو مل چکی جو کہ پاکستان کے چپے چپے کی معلومات خزانہ ہیں اور آن لائن اسکو ڈاکومینٹ بھی کرنے میں جُتے رہتے۔
 خوردوپن ٹیم کے  پہنچے ہوئے بابوں( علمی بابے نہ کہ عمری بابے :) ) سےبھی مل چکی ہوں کیسے کیسے خوب لوگ ہیں یہ واللہ۔۔
Hats off to  Abduhu bhai, Zeeshan bhai, Ahsan bhai,Nayyar qasim.  Abdul joshi and 
the team Khordupin.
سُمیریات 
جولائ 2018 

No comments:

Post a Comment