Tuesday, December 25, 2018

راکا پوشی کے سائے میں

کتاب:راکا پوشی کے سائے میں
نوعیت:سفر نامہ
مصنف: سعد منور

قیمت : آٹھ سو روپے
جب دن عجیب سے گزر رہے تھے اور خواب سارے کسی طاقچے میں  دن رات کی کشمکش و زندگی کی نا محسوس الجھنوں میں اپنا آپ اوجھل کر رہے تھے تو وہ دن آگیا جب مابدولت  اس عالم تنہائی و گنبد مینائ میں وارد ہونے کا حکم بجا لائ کئ برس یا صدیاں پہلے ۔
تو ایسے میں عجب اتفاق کہ ان اوجھل ہوتے خوابوں میں سے ایک چلا آتا ہے کسی مہربان کے توسط سے اور یہ مہربان ہر گز وہ نہیں جس بارے کہا گیا" کسی مہرباں نے آ کے میری زندگی سنواردی" بلکہ یہ تو سکوت میں ارتعاش کا مؤجب ہوا بلکل پچھلے یوم پیدائش کی طرح تب  قاتلانہ خواب نے تعاقب کیا یعنی " نانگا ہربت کا عقاب" چلا آیا تھا اور اب کی بار " راکا پوشی کے سائے میں" نے یہ جرات کی۔
مصنف سعد منور کا نام فیس بک کے ٹریکر گروپس میں دیکھا تھا لیکن کبھی کسی تحریر سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔تو شکریہ کے ساتھ پڑھنے کو اٹھا لیا میری مہربان نے صاحب کتاب کے میرے نام کچھ لفظوں کا تردد بھی بہم پہنچانے کی سعی کی تھی۔
یہ چھ لوگوں کی ٹیم کا راکا پوشی بیس کیمپ تغافری اور صاحب کتاب کے اس سے آگے جھیل کیچلی کے ٹریک کی داستان ہے جس میں ضمیمی طور پر درہ خنجراب و ہنزہ کی سیاحت کا احوال ہے۔ 
جو کتاب بہت شوق و اپنے لاحاصل عشق کے زیرنگیں اٹھا ئ تو سفرنامہ کے آغاذ میں تعارف کے مرحلے پر پہلا ہلکا سا شاک گزرا کہ قاری تحریر کے ذریعے ہی مصنف سے بھی متعارف ہوتا ہے۔چھ لوگوں میں بشمول مصنف چار لڑکے اور دو لڑکیوں کی ٹیم کا تعارف جس میں دو لڑکیوں میں سے بقول مصنف ایک لڑکی نہیں بلکہ "عورت" تھی۔ اب جس طرح کا تعارف اس ٹیم رکن کا کروایا گیا یقیناً اس میں حامل ہزا لڑکی کی ایما بھی ہوگی۔تب ایک سوال ذہن میں اٹھا تھا کہ بطور "عورت" کسی مصنف کے قلم سے میں اپنے آپکو کیسے پوٹریٹ کروانا پسند کروں گی؟  اپنے حلقہ خواتین میں بھی یہ سوال داغ دیا۔۔جوابات کیا یہ کسی اور وقت پر زیر بحث لاؤں گی۔خیر دل کو تسلی دی کہ نو آموز سفرنامہ نگار ہیں تو ابھی اس نازکی کے اسلوب کو شاید سمجھے نہیں لیکن اس عنصر کو نبھانے کی کوشش میں جو کسی سفرنامہ میں قاری کی دلچسپی کو برقرار رکھتا بلخصوص مرد قاری کی۔کہ آگے کئ جگہ ایسا لگا کہ وہ اس خاتون کو اپنے تخیل کے کردار کے مکالمے ادا کروا رہے ہیں۔اگر حقیقت میں بھی ویسا ہی سب تھا تو اس کو بیان کرنے کا انداز عامیانہ تھا۔کسی نے کہا تھا خواتین کے سراپے یا انکی شخصیت بارے تحریر کرنا بہت باریکی و محتاط انداز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔اور میِ سمجھتی ہوں اس کے لیے مطالعے کی ریاضت کا ہونا بھی اشد ضروری ہے۔بلکہ پورے افسانے کے اوور آل تبصرے پر بھی یہی خیال ہے میرا۔مصنف کی اچھی بات جو نماز کے حوالے سے گواہیاں جمع کرنے کی اپنے والد صاحب کی نصیحت پر عمل کرنے سب سے بہترین لگی۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ باتوں پر حیرت بھی ۔کہ کسی اور مصنف کی کتاب سے کہیں پورے پیراگراف اور کہیں کچھ سطریں لکھی گئیں لیکن حوالہ دینا مناسب نہیں سمجھا گیا کہوں تو عرف عام میں اسے سرقہ کہتے ہیں۔جو امیچور ہونے کی علامت ہے۔یہ مانتے ہیں اور ہوتا بھی ہے کہ آپ کسی خاص مصنف کو جب بہت پڑھتے ہو تو اسکا انداز بیان آپکی اپنی تحریر میں جھلکنے لگتا ہے لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا ہوبہو انداز و الفاظ وہی ہوجائیں۔نام کردار بدل دیے جائیں۔ مصنف کئ جگہ مزاح یا دلچسپی کا عنصر پیدا کرتے شاید تحریر کو کوئی عام سی گفتگو سمجھنے لگے حالانکہ بخوبی پتہ ہوگا کہ یہ کتاب پبلش ہورہی ہے تو اپنا لکھنے کا معیار پبلش ہونے کے معیار مطابق کرنے کی کوشش ہونی چاہئے تھی۔اوور آل یہ ایک بہت اچھی تو نہیں ہاں بہتر کوشش ہے لکھنے کی مشق کو جاری رکھنے کی لیکن چونکہ میرے علم میں ہے کہ یہ مصنف کا دوسرا سفرنامہ ہے تو سوچتی ہوں کیا یہ پہلے سے بہتر ہے؟  اسکا جواب یا مصنف کو پتہ ہوگا یا پہلا سفرنامہ پڑھنے والوں کو۔ حوصلہ افزائی کے لیے کہوں گی کہ نو آموز ٹریکر یا پہلی بار راکاپوشی کا نام سننے والے ضرور اس سفرنامے کو مفید پائیں گے۔لیکن اسلوب کے حوالے سے کہوں گی مصنف اس سفر نامے کو کسی بہتر وسعت مطالعہ سفرنامہ رکھنے والے سے اک بار پڑھوا کر پبلش کرتے تو بہت کچھ بہترین ہوجاتا جو کافی سقم رہ گئے۔کہ میرے محدود مطالعے میں پہلی بار سفرنامہ لکھنے والوں کے سفرنامے نظر سے گزرے ہیں ۔یہ تو پھر دوسرا سفرنامہ ہے صاحب کتاب کا۔اور کوئ آٹھ سو قیمت ادا کرے اک خزانے کے موتی کے لیے تو موتی اس معیار کا ضرور ہو کہ اسے آٹھ سو بھی کم لگیں۔ تقریباً دو سو صفحات کے لیے۔ 
بحر حال یہ لکھنے کے لیے ہاتھ سیدھا کرنے کی بہترین کاوش
ہے۔۔ ابھی ریاضت کے امتحان اور بھی ہیں۔ 

سُمیریات

2 comments:

  1. سمیریات کی ہمیشہ سے معترف ہوں
    اور پڑھی تو میں نے بھی ہے یہ کتاب مگر سمیرہ کا تبصرہ ہم سب کی دلی آواز لگتا ہے ,لفظوں کا بہترین چناؤ ,بہت ہی کمال کا ہے

    ReplyDelete