Tuesday, February 12, 2019

استنبول کے دن (سفرنامہ)

کتاب: استنبول کے دن
مصنف: جمیل عباسی
نوعیت: سفرنامہ
سب سے پہلے تو سرورق پر ایک بھر پور نظر ڈالی اگرچہ پہلے اسکا دیداد کر چکی تھی لیکن ہاتھ میں آجانے کے بعد کتاب کو بغور دیکھنا اور پھر اسکی نئ نویلی سی خوشبو کو محسوس کرنا اور بات ہے۔ تو سروق کو ایک بھر پور نظر سے دیکھا اور اسکے ہر گوشے کو محسوس کیا یہ بھی کوئ قدیمی قسطنطنیہ کے سحر میں مبتلا کرتا ہے۔۔۔ گرینڈ بازار اور ساتھ آیا صوفیہ کی جھلک۔۔ قلمی نام "جیم عباسی" کی پہلی با ضابطہ تحریر یعنی کہ سفرنامہ۔۔
اسکا انتساب بھی بلاشبہ بہت خوب ہے ۔۔
عظمیٰ کے نام
اور عظمیٰ کے نام کے ساتھ ہی مجھے تارڑ صاحب کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں عظمیٰ جو کہ جمیل ہے تو خوب صورت ہوا نا پھر ۔
اب جمیل عباسی کا تارڑ صاحب کے ساتھ جو عقیدت اور محبت کا تعلق ہے وہ اب ڈھکا چھپا نہیں بلکہ یہ بہت ہی گہرا ہے اور اسکا ثبوت تارڑ صاحب کے اپنے الفاظ میں دیباچہ کی صورت موجود ہے جو کہ ایک رشک آمیز کیفیت کا باعث ہے ماشاءاللہ ۔
اور دیباچہ میں جو کچھ تارڑ صاحب نے جمیل عباسی کے لیۓ تحریر کیا آگے سفر نامہ اسکی گواہی دیتا ہے کہ ایک قاری جب اسے پڑھنا شروع کرتا ہے تو پھر اسے اس سفرنامے کو پڑھے بنا ایک طرف رکھ دینا مشکل ترین ہوجاتا ہے۔۔ ایک سبک رفتار روانی دلچسپ تحریر مسکراتی سطریں جو کہ جیم عباسی کے اپنے مرشد کے نقش قدم انکی رہنمائ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔۔۔
وہ کسی بیعزت سٹیشن کو عزت دینا ہو، آٹمن پرنس بننا ہو، پینڈو پت ہوتے ہوۓ نہ ہونے کا احساس ہو۔۔۔ خود کو "عربی" نا ثابت کرنے کی تغ و دو ہو یا ٹورسٹ ٹیسلری کیملیکا کی خواری ہو باقیوں کو بے وقوف سمجھتے ہوۓ ۔۔ بہت ہی خوب صورت مسکراتا ہوا عہد جدید میں کچھ قدیمی معلومات سے لیس ایک بہت دلچسپ سفرنامہ۔۔

ٖ"FALLING LEAVES RETURN TO THEIR ROOTS"

"FALLING LEAVES RETURN TO THEIR ROOTS"
Novel.
Really heart touching story of the bitterness of the relationships, courage of the little unwanted girl,her inner wish to get love of her siblings, inspite of the quarrel behaviour of her siblings she still wish to unite her family but ... n yes at last proud for her father n some how for step mother ... yes happy about her on as she got a love able husband who always be there for her, what ever was gng on.
"Bob was the only man i knew who professed his love, not by words, but by his every action.Towards the end of that year,for his birthday, I sent him a card.
"The day you were born was the luckiest day in my life. Your love shields me from life's worst blows.With you, I feel completely safe. Thank you for always being there for me.
(" Falling leaves return to their roots" a true story of Adeline yen mah)

سدھارتھ (ناول)

کتاب:سدھارتھ 
مصنف: ہرمن ھیسے
 ترجمہ: آصف فرخی
نوعیت: ناول
تبصرہ:سمیرا انجم 
ایک ایسا ناول جو خود آگاہی ،اپنی ذات میں جھانکنے اپنی اصل کو جاننے، ہر شے کو ایک ایسی آنکھ سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے کہ جس میں چیزیں صاف اور اپنی تخلیق کے اصل مقصد کو جاننے کی طرف مایؑل کرتی ہیں۔۔ ناول کا مرکزی کردار کس طرح سے اس سفر پہ نکلتا ہے اور اسکے علم،اگاہی کی منزلیں اسے کیا کیا سکھاتی ہیں ۔۔ اور وہ کن مراحل سے وہ سب جانتا ہے جو اسکو بہت شروع کی سٹیج پہ سفر پہ نکلنے پہ مجبور کرتا ہے۔۔ جہاں ہر مقام پر اسکی تشنگی،کچھ کمی کا احساس اسے بے چین کرتا ہے وقتی طور پہ کچھ سکون کے باوجود بھی۔۔ دنیا تیاگ کر بھی اور اس دنیا میں رہ کر بھی اس کے معمول کے طرز زندگی کو گزار کر بھی۔۔۔۔ سو تجربات سے خود آگاہی کی منازل طے کرتے سدھارتھ اسی طرف لوٹ جاتا ہے جو فطرت ہے جس سے ہمکلام ہونا بہت آسان ہے اتنے کشٹ کرنا ضروری نہیں ۔۔ smile emoticon
مسلمان کی حثیت سے وہی بات ک مظاہر قدرت پہ غور ہ فکر آپکو اپنی ذات کا عرفان بھی دیتا ہے اور اس ذات کا بھی جس نے یہ سب تخلیق کیا۔۔۔۔
ایک بار قلم سے نکلا تھا
سسی وچ تھلاں دے پھردی کردی پُنل پُنل
جے کر مارے جھاتی،او بیٹھا دل دے اندر smile emoticon
اقتباسات ناول
"لکھنا اچھا ہے' سوچنا اس سے بہتر- ہوشیاری اچھی ہے صبر اس سے بہتر"
"زیادہ ترلوگ گرتے پتے کی طرح ہعتے ہیں جو ہوا میں اُڑتا پھرتا ہے'گھومتا ہے' پھڑپھڑاتا ہے'زمین پر گر جاتا ہے۔ مگر کچھ لوگ ستاروں کی طرح ہوتے ہیں اور جانے بوجھے راستے پر سفر کرتے ہیں،انکو ہوا کا کویؑ جھونکا متاثر نہیں کرتا' اور انے اندر آپ اپنا رہنما اور آپ اپنی راہ پوتی ہے"
"ایک سچا کھوجنے والا کسی بھی تعلیم کو قبول نہیں کرسکتا،اگر وہ واقعی کچھ پانا، کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے تو۔ مگر وہ جو پا لیتا ہے وہ ہر راستے ہر منزل کی تصدیق کر سکتا ہے'
۔
۔
۔
۔
۔
۔
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ بھی ہو
آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
(غالب)

کئ چاند تھے سر آسمان (ناول)

کتاب: کئ چاند تھے سر آسمان
مصنف: شمس الرحمن فاروقی
نوعیت: ناول تاریخی
صفحات : 830

جو لوگ شستہ اردو زبان پڑھنے کا زوق رکھتے ہیں انکے کتب خانہ میں یہ ناول ایک بہت اچھا اضافہ ہے۔۔۔ مجموعی طور پہ مجھے اس کو پڑھ کے بہت مزا آیا ۔۔میری رائے اس ناول بارے جو حقیقی ہی لگتا ہےکیا خوب اس میں شُستہ اردو زبان ہے وللہ لطف آگیا۔۔۔ اٹھارویں صدی کے اخیر سے اس میں کہانی کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔۔۔ غالب کا زمانہ،مشاعرے۔۔ ۔۔ فرنگیوں کی من مانیاں۔۔۔اس دور کا رہن سہن۔لباس،عمارات کو اتنی تفصیل سے بیان کیا اور ایسی اردو کہ باوجود کچھ عجیب محسوس کرنے کے آپ بھر پور لطف اندوز ہوتے ہیں۔۔
یہ ناول نواب مرزا داغ کے خاندان کا تانا بانا ہے ۔۔۔
وزیر خانم (والدہ مرزا داغ) کو ایک مضبوط اور خودار کردار کے طور پر دکھایا گیا ہے جو چاہتی ہے کہ عورت کی اپنی ایک حثیت ہے وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے کسے مرد کی پابند کیوں ہو۔۔ اگر ایک مرد کی نظر سے کہوں تو اپنی من مانی کرنے والی خود سر ... لیکن اس کردار کے ساتھ سب اچھا ہوتے ہوۓ بھی ایک ٹریجڈی ہے۔۔۔
ایک وقت آتا ہے کہ مرزا داغ اپنی والدہ سے کہتا ہے
"نصیب نہ ملے عقل تو ملی،اور حسن ذاتی اس پر مستزاد"
اردو زبان کا ایک بہترین ناول اب تک جو میں پڑھ چکی ہوں۔۔

انسان ،اے انسان (ناول)

انسان ،اے انسان
مصنف حسن منظر
نوعیت:ناول
تبصرہ: سمیرا انجم 
دلچسپ آغاز ۔۔لیکن تھوڑا پڑھنے پر لگا کہ روایتی انداز کا ناول ہے جیسے کم مو بیش بڑے پلاٹ کے ناول ہوتے ہیں۔ مرکزی کردار تلمیذ کی زندگی کے گرد گھومتا ہوا اسکا بچپن، لڑکپن اور پھر آگے کی زندگی۔۔۔کچھ جغرافیائ تبدیلیوں کا ذکر معاشرے میں موجود تضادات اور ایک عام انسان پر اسکے اثرات، بہت مذہبی ماحول کے گھرانے میں تعصب انگیز روک ٹوک اور پھر اس انسان پر کہ جس کی شخصیت ابھی بننے کے مرحلے میں ہیں اس پر کچھ منفی اثرات۔۔ کہانی بڑھتی گئ ۔۔ایک مقام پر لگا کہ شاید کچھ جمود سا ہے لیکن پھر جب مرکزی کردار کو پابند سلاسل بھگتنا پڑا تو اس دوران کی نفسیات انسانی خاصی دلچسپ لگی۔ اور تب تک جو ذہن میں اس ناول کے حوالے سے ایک تبصرہ ابھرا تو سوچا یہی اس کے اختیتام پر ہوگا ۔۔۔لیکن پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناول کی آخری سطروں نے ایک دم سے کایا پلٹ دی۔۔۔۔ اور پھر بے اختیار یہی زبان سے نکلا
انسان، اے انسان
بلاشبہ ناول کا نام اپنے اندر اس پورے ناول کو بساۓ ہوۓ ہے ۔۔اور یقیناََ ایک قاری کو اپنی گفت میں لے لیتا ہے خصوصاََ اسکا انجام ۔۔تو اس کو جاننے کے لیۓ ناول کی طویل لیکن دلچسپ مسافت کو طے کرنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عجب سیر تھی

عجب سیر تھی!
مصنف: ڈاکٹر سلیم اختر
نوعیت: سفرنامہ
تبصرہ: سمیرا انجم 
یہ تین مختلف ممالک کے سفرناموں پر مشتم 163 صفحات کی کتاب۔ پہلا سفر نامہ مصنف کے بھارت یاترا کا ہے جہاں وہ ایک ادبی کانفرنس کے لیۓ مدعو کیۓ گۓ اور بچپن کے بعد پہلی بار بھارت گئے۔۔ یہ تھوڑا خشک سا ہے اور کچھ اکتا دینے والا بھی۔ کہ ہم نے تھوڑا ادھورا چھوڑ کے آواپسی کے سفر پر جا بسیرا کیا۔
باقی دونوں سفروں کا احوال دلچسپ بھی لگا اور اسکو پوری دلچسپی سے پڑھا بھی۔ مریشس کے سفر میں وہاں کی اچھی معلومات ملیں اور مصنف کا پاکستان سے تقابلی جائزہ بھی ساتھ ساتھ۔۔یہ تینوں سفر کے احوال میں ساتھ رہا۔
ڈنمارک کے سفر کے احوال میں بھی مختصر لیکن اچھی معلومات ملیں اور کچھ سیر ہوگئ ۔۔
یہ سفر 90 کی دہای میں کیۓ گۓ تھے۔اور کتاب 2003 میں سامنے آئ۔

ایک بات اس میں تارڑ صاحب کا زکر ہے اس حوالے سے جس کی وجہ سے واویلہ زیادہ ہوتا ہے لیکن اصل میں کم ہی ہے۔۔۔اور مصنف نے ذکر کیا اسی حوالے سے لیکن اگر تینوں سفر کو پڑھیں تو مصنف بھی خاصے بقول میری دوست "ن" کے "ٹھ" والی ساری حسرتوں کا اظہار بھی کرتے پاۓ گۓ اور مشاہدہ بھی اسی حوالے سے کیا خاص موقعوں پر۔
ایک نمونہ ملاحظہ ہو جب ہوٹل کی مالکن خود مصنف کے لیۓ صبح کا ناشہ لاتی ہیں۔
"وہ صبح کو خود ناشتہ کی ٹرے لے کر آتی ہے ۔ میک اپ کے بغیر دھلی دھلائ ٹی شرٹ اور جینز میں وہ سکول کی بچی لگتی ہے۔ کسی بڑے ہوٹل کی مالکہ نہیں۔ میں نے اسے غلط نہ کہا تھا تم تو خود سولہ سال کی لگتی ہو۔ میں بالعموم صبح ناشتہ میں دو سادہ ٹوسٹ لیتا ہوں اور گھر سے باہر کھانے میں اور بھی محتاط ہو جاتا ہوں مگر اس دن یہ سوکھے ٹوسٹ فرنچ ٹوسٹ میں تبدیل ہوگۓ( میں اس سے زیادہ دور کی تشبہیہ نہیں سوچ سکتا)
پیارے قارئین ! اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ مارشیس کی ہیر نے پاکستانی رانجھے کو اپنے ہاتھوں سے چوری کھلائ ہوگی۔۔۔ تو ایسی کوئ بات نہیں۔ میں سلیم اختر ہوں مستنصر حسین تارڑ نہیں! "
ایک اور نمونہ پیش ہے اگرچہ کچھ اور بھی ہیں جو پڑھنے پر ہی معلوم ہونگے ۔۔یہاں مصنف کو ہوٹل کی ایک ورکر جس کی مصنف نے اچھی خاصی تعریف کی تھی وہ انکو ہوٹل کے باہر تک چھوڑتے آتی ہے تو آگے آپ پڑھ لیں۔۔۔
" اچھا رخصت!
میں مصافحے کے لیۓ ہاتھ بڑھاتا ہوں ۔ وہ میرا ہاتھ تھام کر پنجوں کے بل اونچی ہو کر ، گال پر پیار کرتی ہے " یو آر اے رئیل جنٹلمین" بھر پور مسکراہٹ " یو ہیو میڈ مائ ڈے ۔ ار نو ۔۔ ڈے بٹ نائٹ" بھر پور پنسی۔
وہ مڑتی ہے۔
میں جاتی کو دیکھ رہا ہوں اسے اور اس کے خوب صورت سیاہ چمکیلے بالوں کو بلکہ ابھی تک دیکھ رہا ہوں۔ اندیشہ ہاۓ دور دراز۔"

دلچسپ ہیں احوال سفر

ایم ایم عالم

کتاب : ایم ایم عالم
مصنف: سکورڈن لیڈر زاہد یعقوب عامر
نوعیت: سوانح حیات
تبصرہ: سمیرا انجم 
ایم ایم عالم ایک ایسا نام جو جب بھی ذہن میں آیا جرات بہادری اور اور ایک فخر, محب وطن پاکستانی کا احساس دلاتا ہے ۔۔ کہ ان کے بارے میں جو بھی پڑھا جانا اس کے بعد بطور پاکستانی ایک فخر کا احساس رہا۔۔۔
ان پر لکھی سکواڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامر ( بھائ) کی کتاب میرے ہاتھوں میں جب آئ تو دل کو بہت زہادہ خوشی سے بھر گئ کہ مجھے اسکا انتظار تھا اور میں اس عظیم ہیرو کے بارے میں اور زیادہ جاننا چاہتی تھی۔۔ شو مئ قسمت کہ جب یہ لکھی جارہی تھی تو اس میں ایک حوالے سے میں بھی وسیلہ بن گئ۔۔ جس کا اظہار زاہد بھائ نے کتاب پر میرے لیے لکھے الفاظ میں کچھ ایسے کیا ہے کہ میں کچھ بھی نہین کہہ پا رہی۔۔ مشکور ہوں سر کی۔
اور یقیناََ قوم کا یہ ہیرو عالم میں انتخاب تھا ۔۔
پیش لفظ میں تارڑ صاحب کے الفاظ
" کہتے ہیں نیوی سمندر گردی ہے ۔ آرمی مشقت و قربانی اور ائر فورس۔۔۔۔ ایک رومانس ہے۔۔ عشق ہے اور ایم ایم عالم اس رومانس کا سب سے بڑا ہیرو تھا ۔ "
سچ ہی کہا ائیر فورس ایک رومانس ہے جنون ہے جوش ہے عشق ہے ۔۔۔
اس کتاب میں ایم ایم عالم کی ذاتی زندگی انکے خاندان انکے دوست احباب کے ساتھ جو مراسم تھے جس عاجزی ،سادگی اور انکساری تھی اس عظیم سپوت میں اس کو جان کر بلا شبہ یقین آجاتا ہے کہ عظیم لوگ ایسے ہی عظیم نہیں ہوتے انکو دنیا کی بے جا عیش و آرام سے غرض نہیں ۔۔ہر کوئ ایم ایم عالم کی طرح وطن کی محبت میں سرشار نہیں ہوتا کہ انکو بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد وہاں کی فضائیہ کا سربراہ بننے کی پیش کش ہوئ لیکن انہوں نے پاکستان کو ترجیح دی اور کہا" میں پاکستانی ہوں۔۔ اس ملک کے ساتھ کیسے غداری کر سکتا ہوں۔۔۔"
ایک نا سمجھ اور شریر سوال کے جواب میں کہ انڈیا دس گنا طاقتور ہے تو ہم کیسے مقابلہ کریں تو انکا جواب نہیات ولولہ انگیز لہجے میں تھا " My Son you can teach a man how to fight but u can not teach him ,how to die?
اور ایسے ہی بہت ساری باتیں اور تصاویر ( جو عام طور پر کہیں نہیں دیکھی ) ہمارے اس ہیرو کے بارے میں اس کتاب میں مصنف نے اکٹھی کر کے ہم کو اپنے اس ہیرو کو اور زیادہ جاننے کا موقع دیا جس کے لیۓ ہم ان کے شکرگزار ہیں ۔۔۔۔
ہر وہ پاکستانی جو اس دھرتی سے محبت کرتا ہے اسے اپنے ہیرو کے بارے میں جاننا ضروری ہے ۔۔۔
کتاب پڑھتے ہوۓ کی جگہ آنکھیں نم بھی ہوئ اور جب وہ واقعہ وہ ریکارڈ بنے کی بات آئ تو سچ میں سانس روک کر پڑھنے والی کیفیات تھیں۔۔
اے دیدء بینا سوگ منا، اے قلب شناسا ماتم کر
جو روشنی بانٹنے آیا تھا وہ مہر منا ڈوب گیا۔۔
اللہ ایم ایم عالم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرماۓ امین۔۔۔
"نوجوان نسل ایک آزاد قوم کے اوصاف کو زندہ کرے۔ آزاد قوم کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ غیرت مند ہوتی ہے جب غیرت مر جاۓ تو قوم مر جاتی ہے۔ غیرت مند کبھی محکوم نہیں ہوتا۔ جناح دین دار تھے یا نہیں ، غیرت مند ضورو تھے ۔۔ نئ نسل کو چاہیۓ کہ وہ اس وصفکو اپنے کردار کا حصہ بناۓ"
ایم ایم عالم
ہر پاکستانی کو یہ کتاب ضرور پڑھنا چاہیۓ تاکہ اپنے ہیروز سے بہتر طور پر متعارف ہوسکیں فخر
کر سکیں۔۔۔

دیوسائ میں ایک رات،چولستان میں ایک رات

کتاب: دیوسائ میں ایک رات
مصنف : محمد احسن
نوعیت: سفر نامہ :
صفحات :567
تبصرہ:سمیراانجم 
دیوسائ میں ایک رات مصنف محمد احسن جو تخلص مسافر شب رکھتے ہیں چار کے بعد ۔ مصنف کی میری زیر مطالعہ پہلی کتاب ٹھہری۔ اس سے پہلے مصنف کائنات،انگلستان مٰن سو رنگ اور دانہ دانہ دانائ تصنیف کر چکے تھے۔ مصنف کی مشکور کہ سالوں پہلے یہ کتاب انکی طرٖف سے میری خواہش ہر آٹو گراف شدہ موصول ہوئ اور ساتھ ہی مطالعہ شروع کر دیا۔گاہے بگاہے اس پر انکو فیڈ بیک دیتی رہی تھی تب یہ بھی نوارد تھے اور ہم کو بھی باقاعدہ تبصرے کا تجربہ نہیں تھا۔۔ آج سوچا اس پر کچھ منظم انداز سے لکھوں۔ ایک بہت ہی دل کو موہ لینے والے سرورق کے ساتھ کہ دیوسائ کس کا عشق نہیں وہسکتا جس کا نہیں ہے وہ عشق کو سمجھتا ہی نہیں۔ تارڑ صاحب کی تحریروں سے متاثر ہونے والے محمد احسن نے اپنی اس کتاب کا نام بھی انکی کتاب غار حرا مین ایک رات سے منسلک کر دیا یہ بھی اپنے مصنف کو خراج تحسین دینے کا انداز۔
یہ سفر جس کی منزل تو ٹھہری دیو سائ اور اسکا بام عروج بھی دیوسائ کی وہ رات رہی جس پر بلاشبہ یہ نام بلکل ثبت ہوجاتا۔ مسنف اپنے جگری دوست عبدل اور اسکی زوجہ ماجدہ کے ساتھ اس سفر پر روانہ ہوے اور یہ سفر اشفاق احمد کے سفر در سفر کی طرح ٹھہرا۔۔ اس میں سیدھے سادے قاری کے لیے تو بس ایک سفر تھا لیکن کچھ قاری جن کو کچھ ادھر ادھر کی شد بد تو انکے لیۓ یہ سفر مٰن ایک اور سفر اور اس مٰن بھی ایک اور سفر۔۔۔ جغرافیہ،سائینس، علم فلکیات، علم اعداد (کہ جس سے مصنف کی خاصی دعا سلام ہے ) علم عشق، تصوف، کائینات کے روموز و اوقاف غرض وہ سب جو کسی پر تو بھاری بھر کم علم کا بوجھ لگے اور کوئ اس کی اور جہتوں کی پیاس کو حلق میں محسوس کرتے تشنگی کا شکوہ کرے۔۔ تنقید اگر کی جاۓ تو یہ کہ ضرورئ نہیں کہ آپ مصنف کے سب نظریات سے متفق ہوں ۔۔اس نے اپنی کائنات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو تلاشا تو پڑھنے والا اپنی کائنات کو لے کر اس میں کھو جاتا ہے۔۔۔ دیوسائ مین جب رات میں آسمان ستاروں سے جگمگاتا ہے تو مسنف جس کو علم فلکیات سے شد بد ہے اور وہ اس بارے انگلستان کے قیام مٰن کچھ کورسز بھی کر چکا ہے تو وہ گفتگو بہت ہی دلچسپ ہے ۔۔ اور تب مجھے اپنے گاؤں کے کھلے صحن میں رات کو گزاری وہ بچپن کی راتیں یاد آئیں جب ہم آسمان پر ستاروں کے جھرمٹوں پر اپنے اپنے قیاس کے گھوڑے دوڑاتے تھے جن مین سے کچھ واقعی گھوڑے ہوتے بھی تھے کہکشاؤں کی دھول میں گم ۔۔ مجموعی طور پر دیوسائ مٰن ایک رات ایسی کتاب جو آپکو آپکی اپنی کائنات میں گم ہونے کی دعوت دیتی ہے ۔۔

کتاب: چولستان میں ایک رات
مصنف: محمد احسن
نوعیت: سفر نامہ چولستان و جنوبی پنجاب
صفحات: 256
مصنف محمد احسن کی دیوسائ مین ایک رات سے ملتے جلتے نام کی کتاب چولستان مین ایک رات جو سفر چولستان پر مبنی جس مٰن میرے کچھ بہت قریب ساتھی بھی مصنف کے ہمسفر رہے مجموع طور پر مجھے یہ متاثر نہین کر سکی۔۔ گو اس مٰن اپنے ساتھیوں کا ذکر اور کچھ نیک زکر آنسہ سمیرا کا بھی مصنف نے کیا جس کے لیے انکی مشکور ہوں لیکن میں انکی تین کتابیں پڑھ چکی تھی تو میرے لیۓ بلکل نیا انداز لگا تحریر کا جو اگر کہوں تو انداز تحریر میں "سنجیدگی" کا عنصر کم لگا مزاح میں بھی وہ بات نہین لگی جو انکی پہلی کتب میں پڑھ چکی تھی۔ اس مین یہ سفر چولستان کا جیسا تصور کیا ویسا نہیں پا سکی ہاں انکا جو پسندیدہ موضوع ہے اس پر خاصی سیر حاصل باتیں ہین جو میں سمجھتی ہوں انکے وہ قارئیں ضرور اس سے خاصے مستفیض ہونگے جو اس راہ کے راہی ہیں۔۔اور شاید یہ کتاب انکے لیے ہی تحریر کی گئ ہے۔ تو وہ ضرور اس کو پڑھیں ۔۔
یہ بھی نہیں کہ یہ مجھے بلکل اچھی نہین لگی بہت ساری سطریں اسکی مجھے متاثر کرتی رہیں۔ لیکن تقابلی جائزہ لیا تو یہ مجھے اس طرح "ڈس" نہین سکی جیسی مصنف کی پہلی کتب نے واردات کی ۔۔
دونوں کتب پر اپنا ناقص سا تبصرہ اس لیۓ ایک ہی جگہ تحریر کیا کہ دونوں ہم نام ہیں اور ہم منصف ہیں۔
جلد ہی انگلستان کے سو رنگ اور دانہ دانہ دانائ پر طبع آزمائ کروں گی۔

چڑھتےسورج کے دیس میں

کتاب : چڑھتے سورج کے دیس میں
مصنف: ڈاکٹر آصف محمود جاہ
نوعیت: سفرنامہ
تبصرہ:سمیرا انجم
" چڑھتے سورج کے دیس میں" ڈاکٹر آسٖ محمود جاہ کا سفرنامہ جاپان ہے جو انھوں نے مارچ
 1996 میں کیا اپنے ایک کورس کے سلسلے میں جاپان یاترا کا موقع ملا تو وہاں کے اپنے تجربات مشاہدات کو نہایت سادہ انداز میں اور دلچسپی سے بیان کیا ہے تقریباََ 100 صفحات کا یہ سفرنامہ بلا شبہ جاپان کے بارے میں قاری کو سادہ انداز میں جاپان کی مختلف روایات سے بھی روشناس کرواتا ہے اور وہاں کی ترقی کے کچھ رازوں سے بھی آگاہ کرتا ہے تقریباََ 20 سال پہلے بھی شاید وہی کچھ فرق تھا جاپان اور پاکستان کی ترقی میں جو آج ہے۔ مصنف چونکہ مخمکہ کسٹم میں ہونے کی وجہ سے وہاں موجود تھے لیکن ساتھ ہی اپنی ڈاکٹری کی بھی دھاک بٹھا دی اپنے کورس میٹ میں اور کچھ جاپانی گڑیوں گڈوں پر بھی ۔ سفرنامے میں تصاویر مین شامل ہیں گو اتنی واضح نہیں لیکن پھر بھی مسنف کے آتش جوانی کی جھلک ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ مصنف ایک بیبے انسان ہیں جو کسی خدا کو نہ ماننے والی دھرتی پر بھی قادر مطلق کی یاد سے بالکل غافل نہ رہے اور ذاتی طور پر مجھے اس بات نے کافی اچھا سا تاثر دیا اللہ نے بے شک انکو اسی وجہ سے آج اتنا مقام و عزت عطا فرمائ کہ وہ اپنے اللہ کے ساتھ ہر حال میں جڑے رہے۔اور خدمت خلق کا جو جزبہ آج ڈاکٹر صاحب ( کہ انکی ابھی کے کچھ سفر نامے پڑھ چکی ہوں) کا مشاہدے میں آتا تو یہ سب اس کا فیضان ہے۔ خیر جاپان کے سفر نامے میں مصنف کہیں بھی ایسے نہیں کہتے نظر آئے کہ پاکستان مٰن سب ہی کچھ برا لیکن ایک امید اوے وطن کو ترقی کرتے دیکھنے کی خواہش سے انہوں نے جاپان کے نظام کو دیکھا پرکھا ۔۔ سفر نامے کے آخر میں مختصر طور پر ایک جائزہ کی طرح کچھ پوائینٹس کو ڈسکس بھی کیا ۔۔ جیسے
٭ وقت کی پابندی اور ڈسپلن
٭ جاپانی کیوں سمارٹ ہیں
٭جاپانیوں کا اخلاق
٭جاپان میں نماز
اور پھر آخر میں جاپانی روز مرہ بول چال کے کچھ الفاظ بھی شامل کیۓ کہ تھوڑی شد بد ہو سکے کسی سے جاپانی میں گفتگو کرنا ہو ۔۔
مختصر سفر نامہ میں ایک طرح سے کوزے مٰن بند کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔
قابل ستائش ہے ۔۔۔
آپکا بہت شکریہ
(dhomo) Aligato gozai masu

قاردش

کتاب: قاردش
مصنف : حسنین نازش
نوعیت: سفرنامہ
صفحات: 265
"قاردش" سفر نامہ ترکیہ مصنف حسنین نازش کا تحریر کردہ۔۔ جو مصنٖف نے اپریل 2012 میں کیا۔۔۔
ایک بہت ہی دلچسپ، معلوماتی اور پر لطف ۔۔ ترکی جو کہ میرے
مستقبل کے خوابوں کے کشکول میں پڑا ایک خوابناک سکہ ہے تو اس کے متعلق کچھ بھی ہو میری توجہ کھینچ لیتا ہے ۔۔ مصنف کو پہلی بار پڑھا تو شروع میں لگا شاید بور ہوگا لیکن آہستہ آہستہ سفرنامے نے اپنی گرفت مین لے لیا اور بجا طور پر پورے سفر کے دواران میرے ذہن میں ایک مصرعہ گونجتا رہا " کچھ دن تو بسو ترکیہ میں" پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا۔۔ تو کچھ ایسا ہی معاملہ رہا۔۔ مصنف درس و تدریس کے ساتھ منسلک ہیں تو اس نوعیت کے اپنے کچھ احبا کے گروپ کے ساتھ سفر ترکی اختیار کیا ۔۔ قاردش جو ترکی لفظ ہے جس کے معنی "بھائ" ہیں۔۔ مصنف نے نہایت پر اثر انادز اور دلچسپی کو ہنوز برقارار رکھتے ہوئے ترکی اور اہل ترکی کے رہن سہن وہاں کی ترقی وہاں کی پاکستان دوستی جو عوام میں ہے اور وہاں کے تاریخی مقامات کو اتنے اچھے انداز سے بیان کیا ہے کہ جب تاریخ کا ذکر کیا تو اسی مقام پر رہتے ہوئے آپ فلیش بیک مین چلے جاتے ہیں اور وہ سب ہوتا ہوا اپنے سامنے محسوس کرتے ہیں۔۔ ملا نصیر الدین کا شہر آک، ترکی کا شہر افیون، قونیہ۔ برسہ ۔کیپا ڈھوکیہ۔ استنبول اور پھر مقامات نیلی مسجد، آیا صوفیہ کی تاریخ اور جدید وضع ۔ اور پھر پاک ترک سکول کے سلسلے بارے حزمت تحریک سے روشناسی۔۔ الغرض ایک نہایت ہی دلچسپ اور پر لفط سفر ۔۔ یہ سب پڑھنے پر ہی محسوسات ملیں گے۔
ایک دلچسپ روایت یا کہانی ترکی چائے یا قہوہ کے بننے کے عمل میں اور ایک بہت ہی خوبصورت روایت کہ بقول مصنف کے ہر ترک گھر میں ایک چھوٹی سی لائبریری ضرور ہوتی ہے ۔۔اور ذاتی طور پر جس سلیقے قرینے سے چھوٹے چھوٹے گھر کو رکھا ہوتا ہے وہ تو ہم ترک ڈراموں میں تھوڑی سی جھلک دیکھ ہی چکے ہیں۔۔
قہوہ کے متعلق جو مثل مشہور وہ مصنف کی زبانی درج ہے
"ہم اس فلیٹ کے باورچی خانے میں گئۓ جہاں کوئ فرد تو موجود نہ تھا مگر چولہا جل رہا تھا جس پر ایک بڑی کیتلی رکھی ہوئ تھی جس کے ڈھکن کی جگہ پر ایک چھوٹی لیتلی رکھی ہوئ تھی تاہم دونوں کیتلیوں سے بھاپ اٹھ رہی تھی بڑی کیتلی میں صرف اور صرف پانی بھرا ہوا تھا جبکہ چھوٹی کیتلی میں چاۓ کو جوش دیا جارہا تھا جو ترک چائے کی پتیوں اور پانی کا ایک محلول تھا۔ یہ چاۓ کیتلیاں سارا سرا دن چولیوں پر چڑھی رہتی ہیں۔ اس چائۓ کے حوالے سے ترکوں میں ایک مثل مشہور ہے ، ان کے مطابق یہ بڑی کیتلی ساس سے مشاہبہ ہے۔ ساس جس قدر زیادہ حرارت پکڑے گی وہ اپنی بیٹی (یعنی آپکی بیوی) کوحدت پہنچاۓ گی یعنی بیوی کی تند مزاجی کا براہ راست تعلق ساس سے ہے ۔ پھر اس چھوٹی اور بڑی کیتلی کے محلول کو باہم ملا کر ایک شیشیے کی پیالی میں ڈالا جاتا ہے ۔ اس پیالی کو ایک چھوٹی سی تھالی میں رکھا جاتا ہے ۔پھر اس پیالی میں سالے ڈالے جاتے ہیں یعنی چینی ڈالی جاتی ہے ،پھر سالی اس چائے کی پیالی میں طوفان برپا کر دیتی ہے یعنی جس چمچ سے چائے ہلائ جاتی ہے وہ آپ کی سالی ہے۔اس گرمائش اور پھر چوفانی ہچکولوں سے چائے کے چند قطرے اس چھوٹی سی تھالی مٰن گرنے کا احتمال ہوتا ہے۔ یہ چھوٹی سی طشتری آپکے سسر ہیں جو اپنی بیوی اور بیٹی کی جلا دینے والی حدت اور دوسری بیٹی کے طوفان اٹھانے کی روش سے اٹھنے والی لہروں کو اپنے دامن میں سمو لیتے ہیں اور ہاں اس تمثیلی مثل میں آپ خود کہاں ہیں؟ جی ہاں۔۔۔۔ یہ شیشیہ کا نازک چائے کا پیالہ آپ خود ہئں۔۔۔"
تو میرے ساتھی قارئین اگر آپ ترکی سے متعلق کچھ اور دلچسپ جاننا چاہیۓ تو اس سفر نامے کا مطالعہ ضرور کیجیۓ ۔۔ کچھ دن تو بسو ترکیہ میں پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا؟
سمیرا انجم 

تیسرا جنم

کتاب: تیسرا جنم
مصنف: ڈاکٹر خالد جمیل (بگ برادر)
نوعیت: سوانح حیات
تیسرا جنم ڈاکٹر خالد جمیل کی آپ بیتی ہے انکی زندگی کے نشیب فراز ، انکی ہمت و حوصلے کی 
داستان کہ جب دوران میڈیکل تعلیم انکا ایک بہت برا کار حادثہ ہوتا کہ جب انکی ریڈرح کی ہڈی پر برا اثر پڑتا اور ایک طرح سے سب امیدیں ختم لیکن کس ہمت کے ساتھ انہوں نے خود کو میڈیکل تعلیم کو جاری رکھنے کے لیۓ ابھارہ اس مٰن انے کچھ قریبی دوست کس طرح انکے لیے معاون رہے انکے والدین نے کس طرح انکی ہمت بندھائ۔۔ سوانح حیات کے ساتھ یہ ایک بہت زبردست کونسلینگ کی تصنیف بھی ہے جو کسی کو بھی مایوسی سے نکال کر زندگی کی دوڑ میں بھر پور انداز سے شامل ہونے پر اکساتی ہے ۔۔کسی بھی جسمانی معزوری کو پس پشت ڈال کر کوئ کس طرح جسمانی طور پر فٹ ہونے والے افراد کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے ۔۔
کچھ اس کتاب سے ۔۔۔

"دنیا کا ہر شخص اپنی حثیت کے مطابق تاج محل بناتا ہےـ کسی کا تاج محل دو مصروں میں سما جاتا ہےـ کسی کا تاج محل کتابوں پر محیط ہوتا ہےــ اگر محبت کے پیمانوں میں ان تمام تاج محلوں کو تولا جاۓ تو انکا وزن ایک جتنا ہی ہوگاـ اصل میں محبت ایک احساس کا نام ہےـ محبت ہمیشہ کچھ لینے کو نہیں کچھ دینے کو کہتے ہیں ـ جو لوگ محبت میں توقعات لگاتے ہیں انکی محبت میں شاید کویٔ کمی ہوتی ہےـ"
"جب دو انسانوں کے درمیان باہمی اعتماد اور خلوص کا رشتہ ہو تو وہ ایک ہی طرح سوچنا شروع کر دیتے ہیں ـ یہاں تک ہوتا ہے کہ ایک کی سوچ خود بخود دوسرے کے ذہن میں منتقل ہوجاتی ہے ـ اصل میں یہ ٹیلی پیتھی کی ایک قسم ہے ـ جب احساس کے رشتے قایٔم ہو جایٔیں تو ایک دوسرے کو اسی طرح کھیچتے ہیں اور متاثر کرتے ہیں"
( تیسرا جنم ،سوانح حیات از ڈاکٹر خالد جمیل بگ برادر)
"اصل میں ہم اپنی سوچوں کی عملی شکل ہوتے ہیں۔ایک کہاوت ہے
you are not what you think, but what you think you are.
اپنے بارے میں آپ جیسا خیال کرتے ہیں آپ ویسے ہی بن جاتے ہیں۔
دماغ میں جو خاکہ بنتا ہے انسانی جسم اسی پر عمل کرتا ہےـ اگر آپ بُری باتیں سوچیں گے تو خود بخود ویسا ہی عمل سامنے آۓ گا"
(تیسرا جنم ، سوانح حیات از ڈاکٹر خالد جمیل)
"جس شخص میں کچھ کرنے کی طلب نہ ہو وہ شخص مردہ ہوجاتا ہے اور جس قوم میں ایسے افراد کی بہتات ہو جاۓ وہ پوری قوم تباہ ہو جاتی ہے"
انسان کے جینز سب سے کم coded ہوتے ہیں۔ جانور جتنے کم درجے کا ہو اس کے جینز اتنے ہی زیادہ coded ہوتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انکے جینز میں لکھا ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی
میں کیا کرنا ہے"

"خوفناک لڑایٔیاں ہمیشہ انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر لڑی جاتی ہیں اور جو اکثر بے سود ہوتی ہیں۔ تحمل اور بردباری چھوٹے سی غلطی کو چھوٹے سے انداز میں وہیں ختم کر دیتی ہے۔ ورنہ پریشانیاں، بچے دینا شروع کر دیتی ہیں اور پریشانیوں کا یہ کنبہ اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ آپ کے سکون کو ختم کر سکتا ہے"-
" جنگ غرور کے خلاف لڑا کریں، بے انصافی اور ظلم سے متصادم ہوا کریں ۔ اس میں بھی بڑا مزا ملتا ہے"
"انسان کامیابیوں اور ناکامیوں کے بعد دونوں صورتوں میں اپنی منزلیں بدلتا ہے"
سمیرا انجم 

بہاؤ (ناول)

کتاب : بہاؤ
مصنف: مستنصر حسین تارڑ
نوعیت: ناول
صفحات: 269
"بہاؤ" ایسی دنیا کہ جس کی داستان،کردار اور سب سے بڑھ کر انوکھی زبان قاری کو اپنی گرفت میں جکڑ لیتی ہے۔ ہر کردار اپنی جگہ اہم کہ وہ کسی نہ کسی طرح پڑھنے والے کے احساسات کا ترجمان ہے۔قاری اپنے آپکو اس کے ساتھ relate کر لیتا۔ مرکزی کردار "پاروشنی" جو ہمہ وقت مختلف استعاروں میں آپکو ملتی ہے ۔ بہاؤ ناول ایک مٹتی ہوئ معدوم ہوتی ہوئ تہزیب کی آواز ہے کہ جو اسی تہزیب کی زبان میں قاری سے ہمکلام ہوتا ہے۔ سوکھتے ریت ہوتے دریا کی معدوم ہوتی تہزیب۔۔ تہزیبیں جو ازل سے دریاؤں کے کنارے پنپتی ہیں کہ پانی ہی زندگی ہے اور اسی سے زندگی کے کام دھندے،رہن سہن، افزائش نسل کے دھارے پھوٹتے ہیں۔
یہ ناول جس کو تخلیق کرنے کے خیال بارے تارڑ صاحب کچھ یوں بتاتے ہیں
"میری عادت ہے کہ سردیاں ہوں یا گرمیاں میں اپنے سرہانے پانی کا ایک گلاس رکھ کرسوتا ہوں کیونکہ لامحالہ رات کے اندر مجھے پیاس محسوس ہوتی ہے اور میں پانی کے گھونٹ بھرتا رہتا ہوں ظاہر ہے اگرموسم بھی گرمی کی شدت کے ہوں تو میری پیاس کا کچھ حساب نہیں رہتا اس رات تو لگتا تھا کہ آگ برساتا سورج غروب ہی نہیں ہوا بدستور شعلہ بار ہے میں کچھ دیر اونگھ لیتا اور پھر تپائی پر دھرے پکے دھاتی گلاس میں سے دوچار گھونٹ بھر کر اپنے بدن کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا، غنودگی اور بیداری کے درمیان ایک لمحے میں میں نے پانی پینے کیلئے گلاس تھاما تو مجھے واہمہ سا ہوا کہ آخری بار جب میں نے پانی پیا تھا تب پانی کی سطح قدرے بلند تھی میری ہتھیلی جو گلاس کی دھاتی سطح کے گرد لپٹی ہوئی تھی اس سے محسوس ہوتا تھا کہ گلاس میں پانی کسی قدر کم ہو چکا ہے اب میرا نیم خوابیدہ ذہن سوال کرنے لگا کہ اگر یہ واہمہ درست ہے تو گلاس میں پانی کم کیسے ہو گیا وہ پانی کہاں گیا اس پیاسی رات کے چند روز بعد میں نے مشہور آرکیولوجسٹ مغل صاحب کا ایک مضمون اب مرحوم ہوچکے’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں پڑھا جو قدیم چولستان کے بارے میں تھا اس مضمون میں ایک فقرے نے میری توجہ حاصل کر لی اور وہ کچھ یوں تھا کہ ایک زمانے میں دیومالائی دریا سرسوتی چولستان میں بہتا تھا اور پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر خشک ہو گیا اب ایک وسیع پاٹ والا دریا ہزاروں برس سے بہنے والا یکدم خشک کیسے ہو جاتا ہے انہی دنوں دریاؤں کے خشک ہو جانے کی وجوہات پر ایک تحقیقی مقالہ میرے ہاتھ آگیا معلوم ہوا کہ کبھی کبھار ان پہاڑوں میں موسموں کے تغیرسے بڑے بڑے تودے یا گلشیئر دریا کے منبعے کے قریب گرکر اسے یا تو روک دیتے ہیں اور یا پھر اس کا رخ بدل دیتے ہیں اس کے سوا میدانوں میں اگر ہریاول کم ہو جائے اور ریگستان ظہور میں آنے لگیں تو گرمی کے باعث دریا ہولے ہولے خشک ہو جاتے ہیں اس کے ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاں آج چولستان کا صحرا ہے وہ علاقہ ایک زمانے میں گھنے جنگلوں پر مشتمل تھا اور ان جنگلوں میں ہاتھی،گینڈے اور دیگر جانور عام پائے جاتے تھے جن کے نقش ہمیں موہنجوڈارو سے دریافت ہونے والی تختیوں پر ملتے ہیں یعنی جن زمانوں میں سرسوتی بہتا تھا اس کے کنارے ایک عظیم تہذیب سانس لیتی تھی جو موہنجوڈارو اور ہڑپہ کا ایک تسلسل تھی اس سارے منظر نامے کے بعد مجھے یہ خیال آیا کہ سرسوتی کے کناروں پر کوئی ایک بستی ہزاروں برس سے آباد ہو گی جس کی حیات کا انحصار اس دریا کے پانیوں پر ہو گا تو کوئی ایک شخص اس بستی کا ایسا ہو گا جوسوچ بچار کرنے والا ہو گا،غور کرنے والا ہو گا تو شاید اسے معلوم ہو گیا ہو گا کہ سرسوتی کے پانی کم ہو رہے ہیں اور یہ دریا بالآخر سوکھ جائے گا اوراس کے کنارے آباد بستی کھنڈروں میں بدل جائے گی ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی تو اب ایک ایسا شخص جسے معلوم ہو گیا ہے کہ دریا سوکھ رہا ہے اور میری بستی اجڑنے والی ہے تو اس کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی کتنا بڑا دکھ اور رنج اس کے اندر ہو گا اور وہ لوگوں کو بتانا چاہتا ہے کہ تم سب فنا ہونے کو ہو تمہاری بستی کا نام و نشان نہ رہے گا تو کیا لوگ اس کی بات پر یقین کریں گے یا اس کا مذاق اڑائیں گے یا پھر اسے ایک قنوطی قرار دے کر بستی سے نکال دیں گے میں نے اسی تھیم پر مبنی اپنے ناول ’’بہاؤ‘‘ کے اس کردار کا نام ورچن رکھا جسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بستی اجڑنے کو ہے۔مجھے یہ ناول تحریر کرتے ہوئے گمان بھی نہ تھا کہ ایک دن میں بھی ورچن کے کردار میں ڈھل جاؤں گا میں بھی آگاہ ہو گیا ہوں کہ سندھ،راوی اور چناب میں پانی کم ہو رہے ہیں اور یہ مکمل طور پر خشک بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے کناروں پر ہزاروں برسوں سے آباد جو تہذیب ہے وہ ملیا میٹ بھی ہو سکتی ہے ان دریاؤں کو اپنوں کا خون زہر آلود کر رہا ہے صرف سیاستدان اور حکمران ہی نہیں بلکہ عوام کی ایک بڑی تعداد بھی رزق حرام کو جائز سمجھتی ہے اوراس کے بل بوتے پر عیش کی زندگی گزارتی ہماری تہذیب کے دریا کو خشک کر رہی ہے ناجائز مربعے، فیکٹریاں، غیرملکی اکاؤنٹ،بھتے اور زمینوں پر قبضے ریت کے وہ صحرا ہیں جن میں دریاؤں کے پانی جذب ہو رہے ہیں اور بہاؤ ہر دن گزرنے پر پہلے سے بھی مدہم ہوا جاتا ہے اور کوئی ایسا دن بہر طور آ جائے گا جب دریا تھم جائے گا اورسب ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں سوات، وزیرستان اور ڈیرہ غازی خان میں اور کوئی پنجاب حکومت کی کشتی ڈبونا چاہتا ہے اور کوئی مرکز کو غرق کرنا چاہتا ہے اورکسی کو کچھ احساس نہیں کہ ڈبونے کیلئے بھی تو ایک دریا درکار ہوتا ہے میں یہ بھی جانتا ہوں کہ قرآن پاک میں ایسی برباد ہو چکی بستیوں کا ذکر آیا ہے جنہوں نے نافرمانی کی اور ان پر عذاب نازل ہو گیا اور ہم صریحاً نافرمانی کے مرتکب ہو رہے ہیں مختلف رنگوں میں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میں تنہا نہیں ہوں جو اس سوچ بچار میں ہوں، میری طرح کے لاکھوں ورچن اور ہیں جو دریاؤں کے کنارے بیٹھے جان چکے ہیں کہ یہ سوکھنے کو ہیں اور وہ بھی بستی والوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ابھی کچھ وقت ہے ان دریاؤں کا پانی نہ سوکھنے دو ورنہ تمہاری بستیاں اجڑ جائیں گی تم بے گھر ہو جاؤ گے لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے ہم ایسے ورچنوں کو پاگل قرار دیتے ہیں اگر ہم نے ان کی آواز پرکان نہ دھرا تو پھر ہزاروں برسوں بعد کوئی شخص اس سوچ بچار میں پڑے گا کہ یہ جو کبھی راوی،سندھ اور چناب دریا ہوا کرتے تھے یہ کیسے خشک ہو گئے اور ان کے کنارے جو بے مثال تہذیبیں تھیں وہ کیسے کھنڈر ہو گئیں کیا ان دریاؤں کے کناروں پر جوبستیاں آباد تھیں ان میں سے ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو خبر کرتا کہ لوگو دریا سوکھ رہے ہیں تمہاری بستیاں کھنڈر ہونے کو ہیں کوئی ایک شخص بھی نہ تھا۔"
تو صاحبو بہاؤ کو پڑھتے ہوئے تارڑ صاحب کے انداز تحریر کی جادوگری آپکو اس جہاں میں لے جاتی ہے کہ آپکو اس ناول کی زبان میں وہ سب کردار الگ الگ انکی آوازوں میں بولتے محسوس ہوتے جیسے آپ ان میں ہی کہیں چل پھر رہے ہیں وہ دکھ وہ کرب آپ پر بھی طاری ہے ۔۔ پاروشنی کے چوڑوں کی کھنک آپ پر بھی اثر کرتی ہے ،پکلی کے آوے کی ہدت اسکے الیکے گئۓ پانڈے ٹنڈر آپکو بھی اپنی طرف کھینچتے، اسوا کے بدن کی تھرتھراہٹ سے آپ بھی اپنے اندر کوئ ڈر رکھتے ، سمرو کی تراچھی ہوئ مہریں آپ پر بھی ثبت ہوتی ہیں۔۔ مامن ماسا کی طرح رکھوں میں الگ اپنی دنیا آپکی بھی ہے،ورچن کی تجسس کی آگ آپ کے اندر بھی بھانبڑ بالتی کہ اس سے پرے کیا ہے دیکھنا تو چاہیۓ۔ پورن اور اسکی سمجھ بوجھ کیا آپکو بھی بودا بنا رہی ہے۔۔ماتی کے تین بچوں کے ساتھ کھیت میں آپ بھی جت جاتے ہیں۔۔بڑے پانیوں کی فکر ،کنک کے مٹھی بھر دانوں کی آس، مور کے بولنے سے اندر بیٹھا ڈر ، سوکھی سفید ہوتی ریت پر پکھیرو۔ پاروشنی کے اندر تخلیق ہوتی اور پھر نہ بولتی زندگی کے جنم کا دکھ۔۔۔یہ سب آپ پر بیتتا ہے۔۔۔۔۔
پاروشنی جو امید کا استعارہ ہے جو اپنی انخ اپنی جی داری سے مٹتی بستی سے جڑی ہے بڑے پانیوں کے آنے کی امید لیے، آخری سانس تک سوکھتے پپڑی ہوتے لبوں کے ساتھ امید کی دھمک کو مرنے نہیں دیتی۔۔دھم ۔۔۔ہوؤ۔۔۔ دھم ہوؤ۔۔۔
بہاؤ دکھ کا استعارہ بھی ہے جوقاری کو پھر ہر دریا کو دیکھتے ہوئے اپنے پورے دباؤ کے ساتھ اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے کہ یہ دکھ اس دھرتی پر ستلج ،راوی کو دیکھتے ہوئے بدن میں بہتا جاتا ہے ۔۔۔۔کیا یہ بھی سوکھ جائیں گے انکے کنارے بھی اونچے ہونگے لیکن ریت سے پر،سفید اڑتی ہوئ بے آب ریت۔۔۔۔ان کناروں کی بھی بستیاں ایسے ہی بڑے پانیوں کے انتطار میں ڈھانچوں میں بدل جائیں گی اور آخر کار بس دھول۔۔۔ اور کوئ ایک آواز کسی آج کی پاروشنی کے کنک کوٹنے کی فضا میں کہیں رہ جائے گی۔۔۔۔۔
اور پھر ڈوب جائے گی
دھم ۔۔۔دھم۔۔۔ ہوؤ۔۔۔ ہوؤ۔۔۔دھم ۔۔۔دھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دکھ کا بہاؤ۔۔۔۔
سمیرا انجم