Tuesday, February 12, 2019

عجب سیر تھی

عجب سیر تھی!
مصنف: ڈاکٹر سلیم اختر
نوعیت: سفرنامہ
تبصرہ: سمیرا انجم 
یہ تین مختلف ممالک کے سفرناموں پر مشتم 163 صفحات کی کتاب۔ پہلا سفر نامہ مصنف کے بھارت یاترا کا ہے جہاں وہ ایک ادبی کانفرنس کے لیۓ مدعو کیۓ گۓ اور بچپن کے بعد پہلی بار بھارت گئے۔۔ یہ تھوڑا خشک سا ہے اور کچھ اکتا دینے والا بھی۔ کہ ہم نے تھوڑا ادھورا چھوڑ کے آواپسی کے سفر پر جا بسیرا کیا۔
باقی دونوں سفروں کا احوال دلچسپ بھی لگا اور اسکو پوری دلچسپی سے پڑھا بھی۔ مریشس کے سفر میں وہاں کی اچھی معلومات ملیں اور مصنف کا پاکستان سے تقابلی جائزہ بھی ساتھ ساتھ۔۔یہ تینوں سفر کے احوال میں ساتھ رہا۔
ڈنمارک کے سفر کے احوال میں بھی مختصر لیکن اچھی معلومات ملیں اور کچھ سیر ہوگئ ۔۔
یہ سفر 90 کی دہای میں کیۓ گۓ تھے۔اور کتاب 2003 میں سامنے آئ۔

ایک بات اس میں تارڑ صاحب کا زکر ہے اس حوالے سے جس کی وجہ سے واویلہ زیادہ ہوتا ہے لیکن اصل میں کم ہی ہے۔۔۔اور مصنف نے ذکر کیا اسی حوالے سے لیکن اگر تینوں سفر کو پڑھیں تو مصنف بھی خاصے بقول میری دوست "ن" کے "ٹھ" والی ساری حسرتوں کا اظہار بھی کرتے پاۓ گۓ اور مشاہدہ بھی اسی حوالے سے کیا خاص موقعوں پر۔
ایک نمونہ ملاحظہ ہو جب ہوٹل کی مالکن خود مصنف کے لیۓ صبح کا ناشہ لاتی ہیں۔
"وہ صبح کو خود ناشتہ کی ٹرے لے کر آتی ہے ۔ میک اپ کے بغیر دھلی دھلائ ٹی شرٹ اور جینز میں وہ سکول کی بچی لگتی ہے۔ کسی بڑے ہوٹل کی مالکہ نہیں۔ میں نے اسے غلط نہ کہا تھا تم تو خود سولہ سال کی لگتی ہو۔ میں بالعموم صبح ناشتہ میں دو سادہ ٹوسٹ لیتا ہوں اور گھر سے باہر کھانے میں اور بھی محتاط ہو جاتا ہوں مگر اس دن یہ سوکھے ٹوسٹ فرنچ ٹوسٹ میں تبدیل ہوگۓ( میں اس سے زیادہ دور کی تشبہیہ نہیں سوچ سکتا)
پیارے قارئین ! اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ مارشیس کی ہیر نے پاکستانی رانجھے کو اپنے ہاتھوں سے چوری کھلائ ہوگی۔۔۔ تو ایسی کوئ بات نہیں۔ میں سلیم اختر ہوں مستنصر حسین تارڑ نہیں! "
ایک اور نمونہ پیش ہے اگرچہ کچھ اور بھی ہیں جو پڑھنے پر ہی معلوم ہونگے ۔۔یہاں مصنف کو ہوٹل کی ایک ورکر جس کی مصنف نے اچھی خاصی تعریف کی تھی وہ انکو ہوٹل کے باہر تک چھوڑتے آتی ہے تو آگے آپ پڑھ لیں۔۔۔
" اچھا رخصت!
میں مصافحے کے لیۓ ہاتھ بڑھاتا ہوں ۔ وہ میرا ہاتھ تھام کر پنجوں کے بل اونچی ہو کر ، گال پر پیار کرتی ہے " یو آر اے رئیل جنٹلمین" بھر پور مسکراہٹ " یو ہیو میڈ مائ ڈے ۔ ار نو ۔۔ ڈے بٹ نائٹ" بھر پور پنسی۔
وہ مڑتی ہے۔
میں جاتی کو دیکھ رہا ہوں اسے اور اس کے خوب صورت سیاہ چمکیلے بالوں کو بلکہ ابھی تک دیکھ رہا ہوں۔ اندیشہ ہاۓ دور دراز۔"

دلچسپ ہیں احوال سفر

No comments:

Post a Comment