Tuesday, February 12, 2019

کئ چاند تھے سر آسمان (ناول)

کتاب: کئ چاند تھے سر آسمان
مصنف: شمس الرحمن فاروقی
نوعیت: ناول تاریخی
صفحات : 830

جو لوگ شستہ اردو زبان پڑھنے کا زوق رکھتے ہیں انکے کتب خانہ میں یہ ناول ایک بہت اچھا اضافہ ہے۔۔۔ مجموعی طور پہ مجھے اس کو پڑھ کے بہت مزا آیا ۔۔میری رائے اس ناول بارے جو حقیقی ہی لگتا ہےکیا خوب اس میں شُستہ اردو زبان ہے وللہ لطف آگیا۔۔۔ اٹھارویں صدی کے اخیر سے اس میں کہانی کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔۔۔ غالب کا زمانہ،مشاعرے۔۔ ۔۔ فرنگیوں کی من مانیاں۔۔۔اس دور کا رہن سہن۔لباس،عمارات کو اتنی تفصیل سے بیان کیا اور ایسی اردو کہ باوجود کچھ عجیب محسوس کرنے کے آپ بھر پور لطف اندوز ہوتے ہیں۔۔
یہ ناول نواب مرزا داغ کے خاندان کا تانا بانا ہے ۔۔۔
وزیر خانم (والدہ مرزا داغ) کو ایک مضبوط اور خودار کردار کے طور پر دکھایا گیا ہے جو چاہتی ہے کہ عورت کی اپنی ایک حثیت ہے وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے کسے مرد کی پابند کیوں ہو۔۔ اگر ایک مرد کی نظر سے کہوں تو اپنی من مانی کرنے والی خود سر ... لیکن اس کردار کے ساتھ سب اچھا ہوتے ہوۓ بھی ایک ٹریجڈی ہے۔۔۔
ایک وقت آتا ہے کہ مرزا داغ اپنی والدہ سے کہتا ہے
"نصیب نہ ملے عقل تو ملی،اور حسن ذاتی اس پر مستزاد"
اردو زبان کا ایک بہترین ناول اب تک جو میں پڑھ چکی ہوں۔۔

No comments:

Post a Comment