Tuesday, February 12, 2019

دیوسائ میں ایک رات،چولستان میں ایک رات

کتاب: دیوسائ میں ایک رات
مصنف : محمد احسن
نوعیت: سفر نامہ :
صفحات :567
تبصرہ:سمیراانجم 
دیوسائ میں ایک رات مصنف محمد احسن جو تخلص مسافر شب رکھتے ہیں چار کے بعد ۔ مصنف کی میری زیر مطالعہ پہلی کتاب ٹھہری۔ اس سے پہلے مصنف کائنات،انگلستان مٰن سو رنگ اور دانہ دانہ دانائ تصنیف کر چکے تھے۔ مصنف کی مشکور کہ سالوں پہلے یہ کتاب انکی طرٖف سے میری خواہش ہر آٹو گراف شدہ موصول ہوئ اور ساتھ ہی مطالعہ شروع کر دیا۔گاہے بگاہے اس پر انکو فیڈ بیک دیتی رہی تھی تب یہ بھی نوارد تھے اور ہم کو بھی باقاعدہ تبصرے کا تجربہ نہیں تھا۔۔ آج سوچا اس پر کچھ منظم انداز سے لکھوں۔ ایک بہت ہی دل کو موہ لینے والے سرورق کے ساتھ کہ دیوسائ کس کا عشق نہیں وہسکتا جس کا نہیں ہے وہ عشق کو سمجھتا ہی نہیں۔ تارڑ صاحب کی تحریروں سے متاثر ہونے والے محمد احسن نے اپنی اس کتاب کا نام بھی انکی کتاب غار حرا مین ایک رات سے منسلک کر دیا یہ بھی اپنے مصنف کو خراج تحسین دینے کا انداز۔
یہ سفر جس کی منزل تو ٹھہری دیو سائ اور اسکا بام عروج بھی دیوسائ کی وہ رات رہی جس پر بلاشبہ یہ نام بلکل ثبت ہوجاتا۔ مسنف اپنے جگری دوست عبدل اور اسکی زوجہ ماجدہ کے ساتھ اس سفر پر روانہ ہوے اور یہ سفر اشفاق احمد کے سفر در سفر کی طرح ٹھہرا۔۔ اس میں سیدھے سادے قاری کے لیے تو بس ایک سفر تھا لیکن کچھ قاری جن کو کچھ ادھر ادھر کی شد بد تو انکے لیۓ یہ سفر مٰن ایک اور سفر اور اس مٰن بھی ایک اور سفر۔۔۔ جغرافیہ،سائینس، علم فلکیات، علم اعداد (کہ جس سے مصنف کی خاصی دعا سلام ہے ) علم عشق، تصوف، کائینات کے روموز و اوقاف غرض وہ سب جو کسی پر تو بھاری بھر کم علم کا بوجھ لگے اور کوئ اس کی اور جہتوں کی پیاس کو حلق میں محسوس کرتے تشنگی کا شکوہ کرے۔۔ تنقید اگر کی جاۓ تو یہ کہ ضرورئ نہیں کہ آپ مصنف کے سب نظریات سے متفق ہوں ۔۔اس نے اپنی کائنات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو تلاشا تو پڑھنے والا اپنی کائنات کو لے کر اس میں کھو جاتا ہے۔۔۔ دیوسائ مین جب رات میں آسمان ستاروں سے جگمگاتا ہے تو مسنف جس کو علم فلکیات سے شد بد ہے اور وہ اس بارے انگلستان کے قیام مٰن کچھ کورسز بھی کر چکا ہے تو وہ گفتگو بہت ہی دلچسپ ہے ۔۔ اور تب مجھے اپنے گاؤں کے کھلے صحن میں رات کو گزاری وہ بچپن کی راتیں یاد آئیں جب ہم آسمان پر ستاروں کے جھرمٹوں پر اپنے اپنے قیاس کے گھوڑے دوڑاتے تھے جن مین سے کچھ واقعی گھوڑے ہوتے بھی تھے کہکشاؤں کی دھول میں گم ۔۔ مجموعی طور پر دیوسائ مٰن ایک رات ایسی کتاب جو آپکو آپکی اپنی کائنات میں گم ہونے کی دعوت دیتی ہے ۔۔

کتاب: چولستان میں ایک رات
مصنف: محمد احسن
نوعیت: سفر نامہ چولستان و جنوبی پنجاب
صفحات: 256
مصنف محمد احسن کی دیوسائ مین ایک رات سے ملتے جلتے نام کی کتاب چولستان مین ایک رات جو سفر چولستان پر مبنی جس مٰن میرے کچھ بہت قریب ساتھی بھی مصنف کے ہمسفر رہے مجموع طور پر مجھے یہ متاثر نہین کر سکی۔۔ گو اس مٰن اپنے ساتھیوں کا ذکر اور کچھ نیک زکر آنسہ سمیرا کا بھی مصنف نے کیا جس کے لیے انکی مشکور ہوں لیکن میں انکی تین کتابیں پڑھ چکی تھی تو میرے لیۓ بلکل نیا انداز لگا تحریر کا جو اگر کہوں تو انداز تحریر میں "سنجیدگی" کا عنصر کم لگا مزاح میں بھی وہ بات نہین لگی جو انکی پہلی کتب میں پڑھ چکی تھی۔ اس مین یہ سفر چولستان کا جیسا تصور کیا ویسا نہیں پا سکی ہاں انکا جو پسندیدہ موضوع ہے اس پر خاصی سیر حاصل باتیں ہین جو میں سمجھتی ہوں انکے وہ قارئیں ضرور اس سے خاصے مستفیض ہونگے جو اس راہ کے راہی ہیں۔۔اور شاید یہ کتاب انکے لیے ہی تحریر کی گئ ہے۔ تو وہ ضرور اس کو پڑھیں ۔۔
یہ بھی نہیں کہ یہ مجھے بلکل اچھی نہین لگی بہت ساری سطریں اسکی مجھے متاثر کرتی رہیں۔ لیکن تقابلی جائزہ لیا تو یہ مجھے اس طرح "ڈس" نہین سکی جیسی مصنف کی پہلی کتب نے واردات کی ۔۔
دونوں کتب پر اپنا ناقص سا تبصرہ اس لیۓ ایک ہی جگہ تحریر کیا کہ دونوں ہم نام ہیں اور ہم منصف ہیں۔
جلد ہی انگلستان کے سو رنگ اور دانہ دانہ دانائ پر طبع آزمائ کروں گی۔

No comments:

Post a Comment