Tuesday, February 12, 2019

بہاؤ (ناول)

کتاب : بہاؤ
مصنف: مستنصر حسین تارڑ
نوعیت: ناول
صفحات: 269
"بہاؤ" ایسی دنیا کہ جس کی داستان،کردار اور سب سے بڑھ کر انوکھی زبان قاری کو اپنی گرفت میں جکڑ لیتی ہے۔ ہر کردار اپنی جگہ اہم کہ وہ کسی نہ کسی طرح پڑھنے والے کے احساسات کا ترجمان ہے۔قاری اپنے آپکو اس کے ساتھ relate کر لیتا۔ مرکزی کردار "پاروشنی" جو ہمہ وقت مختلف استعاروں میں آپکو ملتی ہے ۔ بہاؤ ناول ایک مٹتی ہوئ معدوم ہوتی ہوئ تہزیب کی آواز ہے کہ جو اسی تہزیب کی زبان میں قاری سے ہمکلام ہوتا ہے۔ سوکھتے ریت ہوتے دریا کی معدوم ہوتی تہزیب۔۔ تہزیبیں جو ازل سے دریاؤں کے کنارے پنپتی ہیں کہ پانی ہی زندگی ہے اور اسی سے زندگی کے کام دھندے،رہن سہن، افزائش نسل کے دھارے پھوٹتے ہیں۔
یہ ناول جس کو تخلیق کرنے کے خیال بارے تارڑ صاحب کچھ یوں بتاتے ہیں
"میری عادت ہے کہ سردیاں ہوں یا گرمیاں میں اپنے سرہانے پانی کا ایک گلاس رکھ کرسوتا ہوں کیونکہ لامحالہ رات کے اندر مجھے پیاس محسوس ہوتی ہے اور میں پانی کے گھونٹ بھرتا رہتا ہوں ظاہر ہے اگرموسم بھی گرمی کی شدت کے ہوں تو میری پیاس کا کچھ حساب نہیں رہتا اس رات تو لگتا تھا کہ آگ برساتا سورج غروب ہی نہیں ہوا بدستور شعلہ بار ہے میں کچھ دیر اونگھ لیتا اور پھر تپائی پر دھرے پکے دھاتی گلاس میں سے دوچار گھونٹ بھر کر اپنے بدن کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا، غنودگی اور بیداری کے درمیان ایک لمحے میں میں نے پانی پینے کیلئے گلاس تھاما تو مجھے واہمہ سا ہوا کہ آخری بار جب میں نے پانی پیا تھا تب پانی کی سطح قدرے بلند تھی میری ہتھیلی جو گلاس کی دھاتی سطح کے گرد لپٹی ہوئی تھی اس سے محسوس ہوتا تھا کہ گلاس میں پانی کسی قدر کم ہو چکا ہے اب میرا نیم خوابیدہ ذہن سوال کرنے لگا کہ اگر یہ واہمہ درست ہے تو گلاس میں پانی کم کیسے ہو گیا وہ پانی کہاں گیا اس پیاسی رات کے چند روز بعد میں نے مشہور آرکیولوجسٹ مغل صاحب کا ایک مضمون اب مرحوم ہوچکے’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں پڑھا جو قدیم چولستان کے بارے میں تھا اس مضمون میں ایک فقرے نے میری توجہ حاصل کر لی اور وہ کچھ یوں تھا کہ ایک زمانے میں دیومالائی دریا سرسوتی چولستان میں بہتا تھا اور پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر خشک ہو گیا اب ایک وسیع پاٹ والا دریا ہزاروں برس سے بہنے والا یکدم خشک کیسے ہو جاتا ہے انہی دنوں دریاؤں کے خشک ہو جانے کی وجوہات پر ایک تحقیقی مقالہ میرے ہاتھ آگیا معلوم ہوا کہ کبھی کبھار ان پہاڑوں میں موسموں کے تغیرسے بڑے بڑے تودے یا گلشیئر دریا کے منبعے کے قریب گرکر اسے یا تو روک دیتے ہیں اور یا پھر اس کا رخ بدل دیتے ہیں اس کے سوا میدانوں میں اگر ہریاول کم ہو جائے اور ریگستان ظہور میں آنے لگیں تو گرمی کے باعث دریا ہولے ہولے خشک ہو جاتے ہیں اس کے ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاں آج چولستان کا صحرا ہے وہ علاقہ ایک زمانے میں گھنے جنگلوں پر مشتمل تھا اور ان جنگلوں میں ہاتھی،گینڈے اور دیگر جانور عام پائے جاتے تھے جن کے نقش ہمیں موہنجوڈارو سے دریافت ہونے والی تختیوں پر ملتے ہیں یعنی جن زمانوں میں سرسوتی بہتا تھا اس کے کنارے ایک عظیم تہذیب سانس لیتی تھی جو موہنجوڈارو اور ہڑپہ کا ایک تسلسل تھی اس سارے منظر نامے کے بعد مجھے یہ خیال آیا کہ سرسوتی کے کناروں پر کوئی ایک بستی ہزاروں برس سے آباد ہو گی جس کی حیات کا انحصار اس دریا کے پانیوں پر ہو گا تو کوئی ایک شخص اس بستی کا ایسا ہو گا جوسوچ بچار کرنے والا ہو گا،غور کرنے والا ہو گا تو شاید اسے معلوم ہو گیا ہو گا کہ سرسوتی کے پانی کم ہو رہے ہیں اور یہ دریا بالآخر سوکھ جائے گا اوراس کے کنارے آباد بستی کھنڈروں میں بدل جائے گی ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی تو اب ایک ایسا شخص جسے معلوم ہو گیا ہے کہ دریا سوکھ رہا ہے اور میری بستی اجڑنے والی ہے تو اس کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی کتنا بڑا دکھ اور رنج اس کے اندر ہو گا اور وہ لوگوں کو بتانا چاہتا ہے کہ تم سب فنا ہونے کو ہو تمہاری بستی کا نام و نشان نہ رہے گا تو کیا لوگ اس کی بات پر یقین کریں گے یا اس کا مذاق اڑائیں گے یا پھر اسے ایک قنوطی قرار دے کر بستی سے نکال دیں گے میں نے اسی تھیم پر مبنی اپنے ناول ’’بہاؤ‘‘ کے اس کردار کا نام ورچن رکھا جسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بستی اجڑنے کو ہے۔مجھے یہ ناول تحریر کرتے ہوئے گمان بھی نہ تھا کہ ایک دن میں بھی ورچن کے کردار میں ڈھل جاؤں گا میں بھی آگاہ ہو گیا ہوں کہ سندھ،راوی اور چناب میں پانی کم ہو رہے ہیں اور یہ مکمل طور پر خشک بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے کناروں پر ہزاروں برسوں سے آباد جو تہذیب ہے وہ ملیا میٹ بھی ہو سکتی ہے ان دریاؤں کو اپنوں کا خون زہر آلود کر رہا ہے صرف سیاستدان اور حکمران ہی نہیں بلکہ عوام کی ایک بڑی تعداد بھی رزق حرام کو جائز سمجھتی ہے اوراس کے بل بوتے پر عیش کی زندگی گزارتی ہماری تہذیب کے دریا کو خشک کر رہی ہے ناجائز مربعے، فیکٹریاں، غیرملکی اکاؤنٹ،بھتے اور زمینوں پر قبضے ریت کے وہ صحرا ہیں جن میں دریاؤں کے پانی جذب ہو رہے ہیں اور بہاؤ ہر دن گزرنے پر پہلے سے بھی مدہم ہوا جاتا ہے اور کوئی ایسا دن بہر طور آ جائے گا جب دریا تھم جائے گا اورسب ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں سوات، وزیرستان اور ڈیرہ غازی خان میں اور کوئی پنجاب حکومت کی کشتی ڈبونا چاہتا ہے اور کوئی مرکز کو غرق کرنا چاہتا ہے اورکسی کو کچھ احساس نہیں کہ ڈبونے کیلئے بھی تو ایک دریا درکار ہوتا ہے میں یہ بھی جانتا ہوں کہ قرآن پاک میں ایسی برباد ہو چکی بستیوں کا ذکر آیا ہے جنہوں نے نافرمانی کی اور ان پر عذاب نازل ہو گیا اور ہم صریحاً نافرمانی کے مرتکب ہو رہے ہیں مختلف رنگوں میں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میں تنہا نہیں ہوں جو اس سوچ بچار میں ہوں، میری طرح کے لاکھوں ورچن اور ہیں جو دریاؤں کے کنارے بیٹھے جان چکے ہیں کہ یہ سوکھنے کو ہیں اور وہ بھی بستی والوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ابھی کچھ وقت ہے ان دریاؤں کا پانی نہ سوکھنے دو ورنہ تمہاری بستیاں اجڑ جائیں گی تم بے گھر ہو جاؤ گے لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے ہم ایسے ورچنوں کو پاگل قرار دیتے ہیں اگر ہم نے ان کی آواز پرکان نہ دھرا تو پھر ہزاروں برسوں بعد کوئی شخص اس سوچ بچار میں پڑے گا کہ یہ جو کبھی راوی،سندھ اور چناب دریا ہوا کرتے تھے یہ کیسے خشک ہو گئے اور ان کے کنارے جو بے مثال تہذیبیں تھیں وہ کیسے کھنڈر ہو گئیں کیا ان دریاؤں کے کناروں پر جوبستیاں آباد تھیں ان میں سے ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو خبر کرتا کہ لوگو دریا سوکھ رہے ہیں تمہاری بستیاں کھنڈر ہونے کو ہیں کوئی ایک شخص بھی نہ تھا۔"
تو صاحبو بہاؤ کو پڑھتے ہوئے تارڑ صاحب کے انداز تحریر کی جادوگری آپکو اس جہاں میں لے جاتی ہے کہ آپکو اس ناول کی زبان میں وہ سب کردار الگ الگ انکی آوازوں میں بولتے محسوس ہوتے جیسے آپ ان میں ہی کہیں چل پھر رہے ہیں وہ دکھ وہ کرب آپ پر بھی طاری ہے ۔۔ پاروشنی کے چوڑوں کی کھنک آپ پر بھی اثر کرتی ہے ،پکلی کے آوے کی ہدت اسکے الیکے گئۓ پانڈے ٹنڈر آپکو بھی اپنی طرف کھینچتے، اسوا کے بدن کی تھرتھراہٹ سے آپ بھی اپنے اندر کوئ ڈر رکھتے ، سمرو کی تراچھی ہوئ مہریں آپ پر بھی ثبت ہوتی ہیں۔۔ مامن ماسا کی طرح رکھوں میں الگ اپنی دنیا آپکی بھی ہے،ورچن کی تجسس کی آگ آپ کے اندر بھی بھانبڑ بالتی کہ اس سے پرے کیا ہے دیکھنا تو چاہیۓ۔ پورن اور اسکی سمجھ بوجھ کیا آپکو بھی بودا بنا رہی ہے۔۔ماتی کے تین بچوں کے ساتھ کھیت میں آپ بھی جت جاتے ہیں۔۔بڑے پانیوں کی فکر ،کنک کے مٹھی بھر دانوں کی آس، مور کے بولنے سے اندر بیٹھا ڈر ، سوکھی سفید ہوتی ریت پر پکھیرو۔ پاروشنی کے اندر تخلیق ہوتی اور پھر نہ بولتی زندگی کے جنم کا دکھ۔۔۔یہ سب آپ پر بیتتا ہے۔۔۔۔۔
پاروشنی جو امید کا استعارہ ہے جو اپنی انخ اپنی جی داری سے مٹتی بستی سے جڑی ہے بڑے پانیوں کے آنے کی امید لیے، آخری سانس تک سوکھتے پپڑی ہوتے لبوں کے ساتھ امید کی دھمک کو مرنے نہیں دیتی۔۔دھم ۔۔۔ہوؤ۔۔۔ دھم ہوؤ۔۔۔
بہاؤ دکھ کا استعارہ بھی ہے جوقاری کو پھر ہر دریا کو دیکھتے ہوئے اپنے پورے دباؤ کے ساتھ اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے کہ یہ دکھ اس دھرتی پر ستلج ،راوی کو دیکھتے ہوئے بدن میں بہتا جاتا ہے ۔۔۔۔کیا یہ بھی سوکھ جائیں گے انکے کنارے بھی اونچے ہونگے لیکن ریت سے پر،سفید اڑتی ہوئ بے آب ریت۔۔۔۔ان کناروں کی بھی بستیاں ایسے ہی بڑے پانیوں کے انتطار میں ڈھانچوں میں بدل جائیں گی اور آخر کار بس دھول۔۔۔ اور کوئ ایک آواز کسی آج کی پاروشنی کے کنک کوٹنے کی فضا میں کہیں رہ جائے گی۔۔۔۔۔
اور پھر ڈوب جائے گی
دھم ۔۔۔دھم۔۔۔ ہوؤ۔۔۔ ہوؤ۔۔۔دھم ۔۔۔دھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دکھ کا بہاؤ۔۔۔۔
سمیرا انجم

1 comment:

  1. جی بہت جدت طبع اور ندرت خیال کی متھ اور آہنگ کا دین معلوم ہوتا ہے تجزیہ.

    ReplyDelete