کتاب: قاردش
مصنف : حسنین نازش
نوعیت: سفرنامہ
صفحات: 265
"قاردش" سفر نامہ ترکیہ مصنف حسنین نازش کا تحریر کردہ۔۔ جو مصنٖف نے اپریل 2012 میں کیا۔۔۔
ایک بہت ہی دلچسپ، معلوماتی اور پر لطف ۔۔ ترکی جو کہ میرے
مستقبل کے خوابوں کے کشکول میں پڑا ایک خوابناک سکہ ہے تو اس کے متعلق کچھ بھی ہو میری توجہ کھینچ لیتا ہے ۔۔ مصنف کو پہلی بار پڑھا تو شروع میں لگا شاید بور ہوگا لیکن آہستہ آہستہ سفرنامے نے اپنی گرفت مین لے لیا اور بجا طور پر پورے سفر کے دواران میرے ذہن میں ایک مصرعہ گونجتا رہا " کچھ دن تو بسو ترکیہ میں" پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا۔۔ تو کچھ ایسا ہی معاملہ رہا۔۔ مصنف درس و تدریس کے ساتھ منسلک ہیں تو اس نوعیت کے اپنے کچھ احبا کے گروپ کے ساتھ سفر ترکی اختیار کیا ۔۔ قاردش جو ترکی لفظ ہے جس کے معنی "بھائ" ہیں۔۔ مصنف نے نہایت پر اثر انادز اور دلچسپی کو ہنوز برقارار رکھتے ہوئے ترکی اور اہل ترکی کے رہن سہن وہاں کی ترقی وہاں کی پاکستان دوستی جو عوام میں ہے اور وہاں کے تاریخی مقامات کو اتنے اچھے انداز سے بیان کیا ہے کہ جب تاریخ کا ذکر کیا تو اسی مقام پر رہتے ہوئے آپ فلیش بیک مین چلے جاتے ہیں اور وہ سب ہوتا ہوا اپنے سامنے محسوس کرتے ہیں۔۔ ملا نصیر الدین کا شہر آک، ترکی کا شہر افیون، قونیہ۔ برسہ ۔کیپا ڈھوکیہ۔ استنبول اور پھر مقامات نیلی مسجد، آیا صوفیہ کی تاریخ اور جدید وضع ۔ اور پھر پاک ترک سکول کے سلسلے بارے حزمت تحریک سے روشناسی۔۔ الغرض ایک نہایت ہی دلچسپ اور پر لفط سفر ۔۔ یہ سب پڑھنے پر ہی محسوسات ملیں گے۔
ایک دلچسپ روایت یا کہانی ترکی چائے یا قہوہ کے بننے کے عمل میں اور ایک بہت ہی خوبصورت روایت کہ بقول مصنف کے ہر ترک گھر میں ایک چھوٹی سی لائبریری ضرور ہوتی ہے ۔۔اور ذاتی طور پر جس سلیقے قرینے سے چھوٹے چھوٹے گھر کو رکھا ہوتا ہے وہ تو ہم ترک ڈراموں میں تھوڑی سی جھلک دیکھ ہی چکے ہیں۔۔
قہوہ کے متعلق جو مثل مشہور وہ مصنف کی زبانی درج ہے
"ہم اس فلیٹ کے باورچی خانے میں گئۓ جہاں کوئ فرد تو موجود نہ تھا مگر چولہا جل رہا تھا جس پر ایک بڑی کیتلی رکھی ہوئ تھی جس کے ڈھکن کی جگہ پر ایک چھوٹی لیتلی رکھی ہوئ تھی تاہم دونوں کیتلیوں سے بھاپ اٹھ رہی تھی بڑی کیتلی میں صرف اور صرف پانی بھرا ہوا تھا جبکہ چھوٹی کیتلی میں چاۓ کو جوش دیا جارہا تھا جو ترک چائے کی پتیوں اور پانی کا ایک محلول تھا۔ یہ چاۓ کیتلیاں سارا سرا دن چولیوں پر چڑھی رہتی ہیں۔ اس چائۓ کے حوالے سے ترکوں میں ایک مثل مشہور ہے ، ان کے مطابق یہ بڑی کیتلی ساس سے مشاہبہ ہے۔ ساس جس قدر زیادہ حرارت پکڑے گی وہ اپنی بیٹی (یعنی آپکی بیوی) کوحدت پہنچاۓ گی یعنی بیوی کی تند مزاجی کا براہ راست تعلق ساس سے ہے ۔ پھر اس چھوٹی اور بڑی کیتلی کے محلول کو باہم ملا کر ایک شیشیے کی پیالی میں ڈالا جاتا ہے ۔ اس پیالی کو ایک چھوٹی سی تھالی میں رکھا جاتا ہے ۔پھر اس پیالی میں سالے ڈالے جاتے ہیں یعنی چینی ڈالی جاتی ہے ،پھر سالی اس چائے کی پیالی میں طوفان برپا کر دیتی ہے یعنی جس چمچ سے چائے ہلائ جاتی ہے وہ آپ کی سالی ہے۔اس گرمائش اور پھر چوفانی ہچکولوں سے چائے کے چند قطرے اس چھوٹی سی تھالی مٰن گرنے کا احتمال ہوتا ہے۔ یہ چھوٹی سی طشتری آپکے سسر ہیں جو اپنی بیوی اور بیٹی کی جلا دینے والی حدت اور دوسری بیٹی کے طوفان اٹھانے کی روش سے اٹھنے والی لہروں کو اپنے دامن میں سمو لیتے ہیں اور ہاں اس تمثیلی مثل میں آپ خود کہاں ہیں؟ جی ہاں۔۔۔۔ یہ شیشیہ کا نازک چائے کا پیالہ آپ خود ہئں۔۔۔"
تو میرے ساتھی قارئین اگر آپ ترکی سے متعلق کچھ اور دلچسپ جاننا چاہیۓ تو اس سفر نامے کا مطالعہ ضرور کیجیۓ ۔۔ کچھ دن تو بسو ترکیہ میں پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا؟
سمیرا انجم

No comments:
Post a Comment