کتاب:سدھارتھ
مصنف: ہرمن ھیسے
ترجمہ: آصف فرخی
نوعیت: ناول
تبصرہ:سمیرا انجم
ایک ایسا ناول جو خود آگاہی ،اپنی ذات میں جھانکنے اپنی اصل کو جاننے، ہر شے کو ایک ایسی آنکھ سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے کہ جس میں چیزیں صاف اور اپنی تخلیق کے اصل مقصد کو جاننے کی طرف مایؑل کرتی ہیں۔۔ ناول کا مرکزی کردار کس طرح سے اس سفر پہ نکلتا ہے اور اسکے علم،اگاہی کی منزلیں اسے کیا کیا سکھاتی ہیں ۔۔ اور وہ کن مراحل سے وہ سب جانتا ہے جو اسکو بہت شروع کی سٹیج پہ سفر پہ نکلنے پہ مجبور کرتا ہے۔۔ جہاں ہر مقام پر اسکی تشنگی،کچھ کمی کا احساس اسے بے چین کرتا ہے وقتی طور پہ کچھ سکون کے باوجود بھی۔۔ دنیا تیاگ کر بھی اور اس دنیا میں رہ کر بھی اس کے معمول کے طرز زندگی کو گزار کر بھی۔۔۔۔ سو تجربات سے خود آگاہی کی منازل طے کرتے سدھارتھ اسی طرف لوٹ جاتا ہے جو فطرت ہے جس سے ہمکلام ہونا بہت آسان ہے اتنے کشٹ کرنا ضروری نہیں ۔۔ smile emoticon
مسلمان کی حثیت سے وہی بات ک مظاہر قدرت پہ غور ہ فکر آپکو اپنی ذات کا عرفان بھی دیتا ہے اور اس ذات کا بھی جس نے یہ سب تخلیق کیا۔۔۔۔
ایک بار قلم سے نکلا تھا
سسی وچ تھلاں دے پھردی کردی پُنل پُنل
جے کر مارے جھاتی،او بیٹھا دل دے اندر smile emoticon
اقتباسات ناول
"لکھنا اچھا ہے' سوچنا اس سے بہتر- ہوشیاری اچھی ہے صبر اس سے بہتر"
"زیادہ ترلوگ گرتے پتے کی طرح ہعتے ہیں جو ہوا میں اُڑتا پھرتا ہے'گھومتا ہے' پھڑپھڑاتا ہے'زمین پر گر جاتا ہے۔ مگر کچھ لوگ ستاروں کی طرح ہوتے ہیں اور جانے بوجھے راستے پر سفر کرتے ہیں،انکو ہوا کا کویؑ جھونکا متاثر نہیں کرتا' اور انے اندر آپ اپنا رہنما اور آپ اپنی راہ پوتی ہے"
"ایک سچا کھوجنے والا کسی بھی تعلیم کو قبول نہیں کرسکتا،اگر وہ واقعی کچھ پانا، کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے تو۔ مگر وہ جو پا لیتا ہے وہ ہر راستے ہر منزل کی تصدیق کر سکتا ہے'
۔
۔
۔
۔
۔
۔
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ بھی ہو
آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
(غالب)

No comments:
Post a Comment